انڈیا میں بڑے رہنما دفنائے کیوں جاتے ہیں؟

انڈیا میں بڑے رہنما دفنائے کیوں جاتے ہیں؟

August 08, 2018 - 11:33
Posted in:

جنوبی انڈیا کے معروف رہنما اور تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ ایم کرونا ندھی کا منگل کی شام 94 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔انھیں ان کے مذہبی عقیدے کے برخلاف جلانے کی بجائے دفنایا جائے گا۔اس سے قبل انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کی مقبول رہنما جے للیتا کو بھی ان کے عقیدے کے برخلاف جلانے کے بجائے دفنایا گیا تھا۔تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ کو شخصیت پرستی کا آئیکون کہا جا سکتا ہے کیونکہ ریاست میں کسی دیوی کی طرح ان سے عقیدت رکھی جاتی تھی اور آج بھی ان کے عقیدت مند بڑی تعداد میں موجود ہیں۔جے للیتا کی موت کے بعد ان کے جسد خاکی کو جب قبر میں اتارا جا رہا تھا تو بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ ہندو رسم و روایت کے مطابق موت کے بعد انھیں نذر آتش کیوں نہیں کیا گيا؟ اور اب یہی سوال ایک بار پھر لوگوں کے ذہن میں اٹھ رہا ہے کہ کروناندھی کو کیوں نذر آتش نہیں کیا جا رہا ہے؟یہ بھی پڑھیےآخری رسومات عقائد کے برخلافجے للیتا کے سوگ میں لوگوں نے سر منڈوانا شروع کر دیااس کا جواب تمل ناڈو کی تاریخ میں پوشیدہ ہے۔ دراصل وہاں برہمنی نظام کے خلاف بغاوت کے روپ میں ڈراوڑ جہدوجہد شروع ہوئی تھی اور اس نے وہاں کسی برہمنی رسم و رواج میں عدم یقین کا پرچار کیا تھا۔

کرونا ندھی ہوں یا پھر اس سے قبل جے للیتا دونوں اس تحریک سے وابستہ رہے ہیں۔ جے للیتا نے اپنے سیاسی گرو اور اپنے زمانے کے معروف تمل اداکار ایم جی آر کی موت کے بعد پارٹی کی کمان سنبھالی تھی۔ ایم جی آر کو بھی ان کی موت کے بعد دفن کیا گیا تھا اور ان کی قبر کے پاس ہی دراوڑ تحریک کے بڑے رہنما اور ڈی ایم کے پارٹی کے بانی اننادورے کی بھی قبر ہے۔اب ڈی ایم کے پارٹی یہ چاہتی ہے کہ ان کے لیڈر کروناندھی کو بھی وہیں جگہ ملے لیکن جے للیتا کی قائم کردہ جماعت اے آئی اے ڈی ایم کے جو برسر اقتدار ہے اس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ہائی کورٹ میں ہے۔اس لیے کرونا ندھی کے مدفن کی جگہ کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ ان کی آخری رسومات ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ادا کی جائے گیں۔بہر حال بعض تجزیہ کار ان کے دفنائے جانے کی سیاسی توجیہات پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی ان کی سیاسی وراثت کو محفوظ کرنا چاہتی ہے۔

@RahulGandhi کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

Like Jayalalitha ji, Kalaignar was an expression of the voice of the Tamil people. That voice deserves to be given space on Marina Beach. I am sure the current leaders of Tamil Nadu will be magnanimous in this time of grief. #Marina4Kalaignar Rahul Gandhi (@RahulGandhi) اگست 7, 2018

@RahulGandhi کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

حکومت کا کہنا ہے کہ انّا یونیورسٹی کے سامنے وہ دو ایکڑ زمین دینے کے لیے تیار ہے لیکن یہ جگہ مرینا بیچ سے آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔کرونا ندھی کے بیٹے ایم کے سٹالن، ایم کے الیگری اور بیٹی کانیموژی کا مطالبہ ہے کہ ان کے والد کو دراوڑ تحریک کے بڑے رہنما انّا دورے کی بغل میں جگہ ملے۔ڈی ایم کے کے حامیوں نے کروناندھی کو مرینا بیچ پر دفن کرنے کے مطالبے کے ساتھ جگہ جگہ توڑ پھوڑ بھی کی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے رہنما مرینا بیچ پر دفن ہوں۔کانگریس کے رہنما راہل گاندھی اور معروف اداکار رجنی کانت نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ کرونا ندھی کو مرینا بیچ پر دفنانے کی اجازت دی جائے۔کروناندھی جنوب کی سیاست میں قدآور رہنما تسلیم کیے جاتے ہیں اور گذشتہ چھ دہائیوں میں وہ پانچ بار ریاست کے وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔ انھیں فلم کے سکرپٹ رائٹر کے طور پر شہرت حاصل ہوئی اور اس کے ذریعے ابتدا میں انھوں نے دراوڑ تحریک کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کا کام کیا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}