انسان بااختیار ہے یا مجبور؟

انسان بااختیار ہے یا مجبور؟

December 29, 2017 - 01:03
Posted in:

مصطفےٰ محمود
انسانی حْریت اور آزادی وہ حقیقت ہے جو بعض اوقات انسان کی گمراہی کا باعث بھی بن جاتی ہے۔ حْریت فکر اور آزادی کی ااڑ میں ہی ملحدین مختلف اعتراضات مدلل انداز میں اْٹھاتے ہیں تاکہ دین کے خلاف دلیل اور حجت قائم کر سکیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ:
جب اللہ نے میرے افعال کو میرے اْوپر مقدر طے کر دیا ہے تو پھر وہ حساب کیوں کر لے سکتا ہے؟
جب دنیا میں ہر چیز اللہ کی مشیت سے چل رہی ہے تو پھر میرا قصور کیا ہے؟
عملاً تو یہ سوال ایک گتھی کو سامنے لا رکھتا ہے۔ اسی لیے تو نبی کریمؐ نے اپنے صحابہؓ کو تلقین فرمائی تھی کہ اس بحث میں نہ پڑیں۔ فرمایا: ’’جب تقدیر کا ذکر آجائے تو اْس پر بات کرنے سے رک جاؤ۔‘‘ چونکہ یہ ایسا فلسفیانہ عقدہ تھا جس کی بنا پر انسان بے یقینی اور بے ایمانی کے گڑھے میں لڑھک سکتا تھا، لہٰذا آپؐ نے عمیق عقلی دلائل پر قلبی ایمان کو فوقیت اور ترجیح دی۔
کائنات کے اندر ارض وسماوات اور ستاروں پر نظر ڈالیں تو دکھائی دیتا ہے کہ یہ سب ایک مضبوط و محکم سلسلے میں بندھے ہوئے ہیں۔ کائنات کی ہر شے ایک محکم نظام کے تحت چل رہی ہے۔ سورج کا طلوع و غروب ہی بطورِ مثال ملاحظہ کر لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ ایک قانون کے مطابق حرکت کرتا ہے۔ اسی طرح دیگر اشیاے کائنات بھی ایک قانون اور ضابطے کے مطابق چلتی ہیں۔ صرف واحد انسان ہے جو اپنی طبیعت اور حالات و ظروف کے مطابق آزادی، جذبات اور خواہشات کا مالک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کائنات سے متصادم رہتا ہے۔ لیکن یہ ناممکن ہے کہ کسی لمحے کوئی انسان اس بات سے آگاہ ہو سکے کہ اْس کا انجام کب اور کیا ہے؟
اپنے ماحول کی رکاوٹیں اور مزاحمتوں کے باوجود انسان کی حریت ایک حقیقت ہے، کوئی وہم نہیں۔ انسان اپنے دائرۂ ضمیر میں مطلقاً آزاد ہے۔ البتہ اس کے نفاذ و اطلاق میں، یعنی دائرۂ فعل و عمل میں اس کی آزادی مطلق نہیں بلکہ منسوب ہے۔ یہ اس کے ماحول کے حدود و مزاحمتوں کے مطابق ہوتی ہے۔
اب رہی بات اللہ اور انسان کے مابین تعلق کے حوالے سے اس ازلی راز کی، یعنی مطلق ارادۂ الٰہیہ کے ساتھ انسان کی آزادی کے معاملے کی بات۔
قرآن کہتا ہے کہ انسان کی آزادی اللہ کی مشیت، رغبت اور مراد کے ساتھ وابستہ ہے۔ انسانی آزادی نہ خالق کی طرف سے جبری ہے اور نہ مخلوق کی طرف سے۔ قرآنِ کریم بڑی وضاحت سے کہتا ہے، ترجمہ: ’’اگر تیرے رب کی مشیت یہ ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرماں بردار ہی ہوں) تو سارے اہل زمین ایمان لے آئے ہوتے۔ پھر کیا تْو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں؟ (یونس 99)
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرنے سے انکار کیا ہے، حالانکہ یہ اْس کے بس میں تھا، مگر اْس نے انسان کو خودمختار رکھنے کا فیصلہ کیا: ’’صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمھارے رب کی طرف سے، اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے۔‘‘ (الکھف 29)
’’دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔‘‘ (البقرہ 256)
’’اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے۔‘‘ (السجدۃ 13)
’’رہے ثمود، تو اْن کے سامنے ہم نے راہِ راست پیش کی مگر انھوں نے راستہ دیکھنے کے بجاے اندھا بنارہنا ہی پسند کیا۔‘‘ (حٰم السجدہ 17)
اگر ہم ہدایت کے مقابلے میں اندھا پن (گمراہی) اختیار کرنا چاہیں تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی آزادی دے رکھی ہے۔ اس کی مشیت اسی طریقے سے تو پوری ہوتی ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اللہ نے اس سے بھی زیادہ آزادی اور اختیار دے رکھا ہے۔ یعنی ان دونوں راستوں میں سے کسی ایک راستے کے انتخاب کا اختیار دے رکھا ہے۔ اللہ نے یہ امانت جو کہ حریت بھی ہے اور مسؤلیت بھی، ہمارے اوپر پیش کی تاکہ ہم اس امانت کو قبول کریں یا اْس کو اٹھانے سے انکار کردیں۔ یہ ہمارا اختیار اور مرضی تھی اور اسی امانت کو اٹھانے سے آسمان و زمین اور پہاڑوں نے انکار کر دیا تھا مگر انسان نے اْس امانت کو اٹھا لیا۔ اس لیے کہ انسان جاہل بھی ہے اور اپنے اْوپر ظلم کرنے والا بھی۔ (ترجمہ:اِرشاد الرحمٰن)
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}