انتفادہ کا اعلان: فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز میں جھڑپیں

انتفادہ کا اعلان: فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز میں جھڑپیں

December 07, 2017 - 20:28
Posted in:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے رد عمل میں مقبوضہ غربِ اردن میں فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 16 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زیادہ تر فلسطینی آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم کم از کم ایک فلسطینی فائرنگ سے زخمی ہوا ہے۔ امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور فلسطینی گروپ حماس کی جانب سے انتفادہ کی کال کے بعد اسرائیل نے غربِ اردن میں سینکڑوں مزید فوجی تعینات کر دیے ہیں۔ امریکی اعلان کے خلاف غربِ اردن اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں نے ہڑتال کی ہے اور سڑکوں پر احتجاج کیا ہے۔ مزید پڑھیےحماس کا اسرائیل کے خلاف انتفادہ شروع کرنے کا مطالبہیروشلم دنیا کا سب سے متنازع شہر کیوں؟22 سال سے سفارتخانہ یروشلم منتقل کیوں نہیں ہوا؟برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق غربِ اردن کے علاقے الخلیل اور البيرہ میں ہزاروں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مظاہرین ’یروشلم فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہے‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ دوسری جانب غزہ کی پٹی میں درجنوں مظاہرین اسرائیلی سرحدی دیوار کے قریب جمع ہوئے اور اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ کیا۔ فلسطینی طبی حکام کے مطابق دو فلسطینی گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم اسرائیلی فوج کی ترجمان نے اس پر تبصرہ نہیں کیا۔ ایک نیا انتفادہ؟امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد فلسطینی آزادی کی تحریک چلانے والی جماعت حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے اسرائیل کے خلاف انتفادہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔یہ اعلان اسماعیل ہنیہ نے غزہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف انتفادہ کی دو تحریکیں چلائیں جا چکی ہیں۔عالمی ردعملامریکی صدر کے اعلان کے بعد سے بین الاقوامی سطح پر اس کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔امریکی صدر نے بدھ کی رات وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطینوں کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔نئے امریکی صدر سے بڑھتی ہوئی قربت کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے جاری کیے گئے شاہی بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ 'بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ' ہے اور 'یہ فلسطینی عوام کے حقوق کے منافی' ہے۔مزید پڑھیےیروشلم: سات ہزار برسوں کی خون آلود تاریخروحانی: مسلمانوں کے خلاف ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا ہےدوسری جانب ایران نے بھی صدر ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے 'اسرائیل کے خلاف ایک اور انتفادہ شروع ہو سکتا ہے۔ یہ اشتعال انگیز اور غیر دانشمندانہ فیصلہ سخت اور پرتشدد ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔'اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 میں سے آٹھ ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی فیصلے کے حوالے سے رواں ہفتے کے اختتام تک ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔فرانس، بولیویا، مصر، اٹلی، سینیگال، سویڈن، برطانیہ اور یوراگوائے نے اس ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے جو جمعے کو منعقد ہوگا اور توقع ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اس میں خطاب کریں گے۔حال ہی میں سعودی عرب میں اپنے استعفے کا اعلان کرنے کے بعد رواں ہفتے اسے واپس لینے والے لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے کہا ہے کہ 'ہمارا ملک بھرپور طریقے سے فلسطینیوں کے ساتھ اپنی حمایت کا اعلان کرتا ہے اور ان کا علیحدہ ملک جس کا دارالحکومت یروشلم ہو، قائم کرنے کے مطالبے کا ساتھ دیتا ہے۔'ادھر یورپ کے دوسرے ممالک کی طرح جرمنی سے بھی امریکی فیصلے کی مذمت سامنے آئی ہے۔ جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے ترجمان کے ذریعے پیغام جاری کیا جس میں انھوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ 'صدر ٹرمپ کے فیصلے کی قطعی حمایت نہیں کرتیں۔'انھوں نے مزید کہا کہ'یروشلم کے رتبے کے بارے میں فیصلہ صرف دو ریاستوں پر مبنی حل کے تحت ہو سکتا ہے۔'فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر کے اس فیصلے پر کہا ہے کہ 'صدر ٹرمپ کے شرمناک اور ناقابل قبول اقدامات نے امن کی تمام کوششوں کو کمزور کر دیا ہے۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}