انتخابی قانون میں ختم نبوت کی شقیں بحال کرنے کا حکم

انتخابی قانون میں ختم نبوت کی شقیں بحال کرنے کا حکم

November 14, 2017 - 17:30
Posted in:

اسلام آباد — 
پاکستان کی ایک عدالت نے الیکشن ایکٹ 2017ء میں ختم نبوت سے متعلق ختم کی گئی تمام ترامیم کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے منگل کو ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اس قانون کی شق 241 کو معطل کرنے کا حکم دیتے ہوئے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی طرف سے اس ضمن میں بنائی کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ سے رپورٹ طلب کی ہے۔
تحریک ختم نبوت کے ایک راہنما مولانا اللہ وسایا نے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن ایکٹ 2017ء کی شق 241 کے تحت ملک میں رائج 8 انتخابی قوانین منسوخ ہو گئے اور اسی طرح ان قوانین میں موجود ختم نبوت سے متعلق شقیں بھی منسوخ ہو گئیں جو کہ آئین پاکستان کے منافی اقدام ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ اس ایکٹ کو کالعدم قرار دیا جائے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ چونکہ اب آئندہ عام انتخابات میں بہت کم وقت رہ گیا ہے اس لیے عدالت وفاقی حکومت کا موقف سنے بغیر انتخابی اصلاحات کا یہ قانون معطل نہ کرے۔
تاہم جسٹس شوکت صدیقی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ختم نبوت کے معاملے سے کسی طور بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا اور انھوں نے اس ضمن میں منسوخ ہونے والے قوانین کو بحال کرنے کا حکم دیا۔
حکومت کا موقف رہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے قانون کے مسودے میں حلف نامے میں ختم نبوت سے متعلق تحریر "سہواً" تبدیل ہو گئی تھی جسے درست کر دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اسے مذہبی حلقوں کو مطمئن کرنے کے لیے آئے روز وضاحتیں دینا پڑ رہی ہیں۔
تحریک لبیک یا رسول اللہ سمیت بعض دیگر مذہبی جماعتوں کے سیکڑوں کارکنان گزشتہ ہفتے سے وفاقی دارالحکومت کے ایک اہم داخلی راستے پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ اس ختم نبوت کے معاملے پر غلطی کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف کارروائی اور وفاقی وزیر قانون سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اس دھرنے کی وجہ سےاسلام آباد سے آمدورفت بری طرح متاتر ہوئی ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
منگل کی شام وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف نے بعض دیگر وزرا کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ختم نبوت سب مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے اور اس پر کسی طور کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
لیکن ان کے بقول احتجاج کرنے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ شہریوں کی مشکلات میں اضافے کی بجائے اس بارے میں معاملات افہام و تفہیم سے حل کریں۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے امور داخلہ طلال چودھری نے ایک بار پھر احتجاج کرنے والوں کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے دھرنا ختم کرنے کی درخواست کی۔
ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کی طرف سے 12 مطالبات کیے گئے تھے اور جب سے یہ لوگ اپنی احتجاجی ریلی لے کر لاہور سے اسلام آباد کی طرف سے روانہ ہوئے ان سے وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کے نمائندے مذاکرات کرتے آ رہے ہیں۔
طلال چودھری کے بقول اکثر مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں لیکن ان میں بعض سیاسی نوعیت کے مطالبات بھی ہیں جو کہ قانونی و آئینی طور پر قبول کرنا مشکل ہے۔

VOA بشکریہa {display:none;}