امریکی ہتھیاروں کا سسٹم ’آسانی سے ہیک کیا جا سکتا ہے‘

امریکی ہتھیاروں کا سسٹم ’آسانی سے ہیک کیا جا سکتا ہے‘

October 12, 2018 - 17:25
Posted in:

امریکی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے جدید ترین ہتھیاروں میں سے چند کو ’بنیادی ٹولز‘ استعمال کر کے ’آسانی سے ہیک‘ کیا جا سکتا ہے۔ امریکی حکومت کے احتساب دفتر (جی اے او) نے سنہ 2012 سے 2017 کے درمیان تقریباً تمام ہتھیاروں کا معائینہ کیا جس کے بعد اسے معلوم ہوا کہ یہ ہتھیار سائیبر حملے کی زد میں ہیں اور یہ ’مشن بہت نازک‘ ہے۔جی اے او کے مطابق ان میں جدید ترین ایف-35 جیٹ کے علاوہ میزائل سسٹم شامل ہیں۔ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو پیش کی جانے والی 50 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے حوالے سے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے حکام نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔یہ بھی پڑھییےچین امریکی اہداف پر ’حملوں کی مشق‘ کر رہا ہے: پینٹاگونشمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کے منصوبے چرا لیےہماری انفارمیشن فوج موثر پروپیگنڈہ میں ملوث ہے‘ہیکنگ سے یاہو کے ایک ارب اکاؤنٹس متاثرکمیٹی کے ارکان نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ ہتھیاروں کے نظام کو سائبر حملوں کے خلاف کیسے محفوظ کیا گیا تھا؟رپورٹ کے اہم نتائج کے مطابق

  • پینٹاگون نے ایک سے زیادہ ہتھیاروں کے نظام پر ڈیفالٹ پاس ورڈز تبدیل نہیں کیے جبکہ ایک تبدیل شدہ پاس ورڈ کا اندازہ صرف نو سیکینڈ میں لگایا گیا تھا۔
  • جی اے او کی جانب سے مقرر کی جانے والی ایک ٹیم نے ہتھیاروں کے ایک نظام کا کنٹرول آسانی سے حاصل کر لیا اور آپریٹروں کو ہیکروں کا جواب دیتے ہوئے دیکھا۔
  • دو افراد پر مشتمل ایک دوسری ٹیم کو ہتھیاروں کے نظام تک ابتدائی رسائی حاصل کرنے میں صرف ایک گھنٹہ لگا جبکہ مکمل رسائی تک پورا دن لگا۔
  • متعدد ٹیسٹ ٹیمیں ڈیٹا کو کاپی کرنے، تبدیل یا حذف کرنے کے قابل تھیں جبکہ ایک ٹیم 100 گیگا بائٹس کی معلومات کو ڈاؤن لوڈ کرتی ہے۔

جی اے او کا مزید کہنا ہے کہ پینٹاگون کو ’اپنے ہتھیاروں کے سسٹم کی کمزوری کا مکمل پیمانے پر پتہ نہیں تھا۔‘سکیورٹی کمپنی پین ٹیسٹ پارٹنر کے ایک ماہر کین منرو کا کہنا ہے کہ انھیں اس تحقیق کے نتائج سے ’ذرا بھی حیرانی‘ نہیں ہوئی ہے۔ان کے مطابق ’ہتھیاروں کا ایک نظام تیار کرنے میں طویل وقت لگتا ہے ان میں اکثر کی بنیاد زیادہ پرانے سسٹمز پر ہوتی ہے۔ اس کے نیتجے میں اس کے اجزا اور سافٹ ویئر بہت پرانے اور غیر محفوظ کوڈ پر مبنی ہو سکتے ہیں۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}