امریکی پابندیاں: ایران کو کیا فرق پڑے گا؟

امریکی پابندیاں: ایران کو کیا فرق پڑے گا؟

November 04, 2018 - 20:38
Posted in:

ایران میں پیر کے روز سے امریکہ کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کے عمل میں آنے سے پہلے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ سخت گیر موقف رکھنے والے ان مظاہرین کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت بھی کی گئی۔ مزید پڑھیےایران پر پابندیوں کے اثرات: چارٹس میں اسرائیلی ایران مخالف پالیسی کے بنیادی نکاتاس سے پہلے ایران کے ایک طاقتور ادارے گارڈین کونسل نے پارلیمان کو ایک بِل پر دوبارہ غور کرنے کا حکم دیا جس کے تحت ایران اقوام متحدہ کی دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف معاہدے کا حصہ بن جائے گا۔ اس کا مقصد بظاہر انٹرنیشنل فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کو یقین دہانی کروانا تھا کہ ایران عالمی تقاضوں کو پورا کر رہا ہے۔ ’سخت ترین پابندیاں‘وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران پر لگنے والی یہ پابندیاں اس پر لگائی جانے والی ’اب تک کی سخت ترین پابندیاں ہوں گی‘۔ ان پابندیوں کا نشانہ ایران اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والی تمام ریاستیں ہوں گی۔ امریکی فیصلے کے تحت سن 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد جو پابندیاں ختم ہوئی تھیں وہ دوبارہ عمل میں آ جائیں گی۔ تمام آٹھ ممالک کو وقتی طور پر ایران سے تیل کی خریداری کے لیے ان پابندیوں سے چھوٹ دی گئی ہے۔ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای ٹوئٹر پر کہہ چکے ہیں کہ امریکی فیصلہ اس کے اپنے مقام اور لبرل جمہوریت کے لیے باعث ’ذلت ہے‘۔ پابندیوں کی تفصیل امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے شعبوں میں جہاز رانی، سمندری جہاز بنانے کی صنعت، فنانس اور توانائی شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے سیکرٹری نے کہا ہے بین الاقوامی ادائیگیوں کا نیٹ ورک ’سوفٹ‘ بھی ایران سے تعلق ختم کر دے گا اور اس صورت میں ایران بین الاقوامی فنانس سِسٹم سے مکمل طور پر کٹ جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل مئی میں بھی ایران پر کچھ پابندیاں دوبارہ لگا دی تھیں اور یہ پابندیوں کی دوسری کھیپ ہے۔

ایرانی تیل کی کمی کیسے پوری ہو گی؟ واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کے مطابق گذشتہ چھ ماہ میں امریکہ نے ایران سے تیل کی درآمد صفر کے قریب لانے کی پوری کوشش کی ہے۔ تاہم وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ پانچ نومبر کو مارکیٹ سے ایران کا تیل مکمل طور پر غائب ہو جائے اور تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں۔ اس سے ایران کو فائدہ ہو گا اور امریکی اس صورتحال سے خوش نہیں ہوں گے۔ امریکہ نے ایرانی تیل کی کمی پوری کرنے کے لیے تیل کی اپنی پیداوار بڑھا دی ہے اور دوسروں کو خاص طور پر سعودی عرب سے بھی ایسا ہی کرنے کے لیے کہا ہے۔ امریکہ مظاہرہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی اقتصادی طاقت کے بل پر کیا حاصل کر سکتا ہے لیکن ایران کو اپنے پرانے ساتھیوں کی عدم موجودگی میں صرف طاقت کے بل پر تنہا کرنا ایک مشکل کام ہو گا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}