امریکی وسط مدتی انتخابات کے پانچ دلچسپ حقائق

امریکی وسط مدتی انتخابات کے پانچ دلچسپ حقائق

November 07, 2018 - 21:47
Posted in:

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کی گرد بیٹھنے لگی ہے اور آنے والے نتائج میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کی کہانی ابھر کر سامنے آئی ہے۔ تقریباً توقعات کے مطابق وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی رپبلکن پارٹی سینیٹ میں اکثریت برقرار رکھے گی تاہم ان کی حریف ڈیموکریٹک پارٹی ایوان نمائندگان میں سال 2010 کے بعد اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔انتخابی نتائج زیادہ حیران کن کر دینے والے نہیں ہیں لیکن ان میں ایسا بہت کچھ ہے جس سے تجسس پیدا ہوتا ہے کہ آئندہ دو برس میں کیا ہو سکتا ہے۔یہاں آپ کو انتخابات سے اخذ کیے گئے نتیجے کے بارے میں بتاتے ہیں۔ریکارڈ تعداد میں خواتین امیدوار

یہ انتخاب اگر کہا جائے تو دیہی علاقوں اور شہروں کے مضافاتی علاقوں کا تھا اور نتائج میں اس تقسیم کی تصدیق ہو گئی جو کہ ملک میں ابھر رہی ہے۔ ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں اکثریت دینے والے ووٹرز کا تعلق شہروں کے مضافات میں رہنے والے پڑھے لکھے طبقے سے ہے جو عرصے سے رپبلکن کے حمایتی رہے لیکن صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور فن خطابت سے مطمئن نہیں ہیں۔ورجینا کے کئی علاقوں کے بارے میں اگر بات کی جائے تو واشنگٹن اور رچمنڈ کے مضافات کے علاقے ڈیموکریٹس کے پاس چلے گئے۔اسی طرح کے رجحانات ملک بھر میں دکھائی دیے جس میں ٹیکساس ، پنسلوینیا اور الینوائے میں غیر متوقع نتائج سامنے آئے۔تو اس کا کیا مطلب ہے؟یہ ایک قسم کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ رپبلکن جماعت کو 2020 کے انتخابات میں کس قسم کی مشکل صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ کالج سے فارغ التحصل لوگوں نے 2016 کے انتخابات میں صدر ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔ اور اب لگتا یہ ہے کہ وہ ایسا دوبارہ نہیں کریں گے تو اس صورتحال میں رپبلکن جماعت ان ووٹرز کو دوبارہ اپنی جانب لانے کے لیے کیا کرے گی۔ٹرمپ کے گورنرز کے لیے ملے جلے نتائجگورنرز کے انتخابات میں کچھ دلچسپ پیش رفت سامنے آئی ہے۔ 2016 میں بھاری اکثریت کے ساتھ صدر ٹرمپ کی حمایت کرنے والی کچھ ریاستوں نے اس بار ان کی جماعت کا ساتھ نہیں دیا ہے۔12 ملین آبادی والی ریاست النائے نے (جہاں ملک کا تیسرا بڑا شہر شکاگو ہے) ڈیموکریٹک امیدوار جح بی پریتزکر کو کامیابی دلوائی۔ ادھر کینساس میں ٹرمپ کے اتحادی کرس کوبیخ تو انتخاب میں اپنے مخالف کے قریب بھی نہ تھے۔مگر صدر ٹرمپ کے لیے کچھ اچھی خبریں بھی ہیں۔ جورجیا اور فلوریڈا میں ٹرمپ کے حامی کامیاب رہے حالانکہ ان کی انتخابی مہموں میں نسل پرستی کا عنصر بار بار سامنے آیا۔ یہ گورنر 2020 کے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی حمایت کر سکیں گے۔آئیووا اور اوہائیو میں بھی رپبلکن گورنر اپنا عہدہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ گورنر صدارتی انتخاب میں چندہ اکھٹا کرنے اور رضا کار فراہم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں اس لیے ان کا 2020 میں کردار اہم ہو سکتا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}