امریکی استاد جسے لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا

امریکی استاد جسے لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا

April 15, 2018 - 11:32
Posted in:

div class="story-body" style="direction:rtl;"

div class="with-extracted-share-icons"

/button
/div
/li
/ul/div

/div
/div
/div
/div

div class="story-body__inner" property="articleBody"
figure class="media-landscape no-caption full-width lead"span class="image-and-copyright-container"

img class="js-image-replace" alt="جان کورکوران" src="https://ichef-1.bbci.co.uk/news/320/cpsprodpb/16388/production/_10086101..." style="width=100%; max-width=640;"

/span

/figurep class="story-body__introduction"strongجان کورکور/strongstrongی/strongstrongن سنہ /strongstrong40 اور 50/strongstrong کی دہائی/strongstrongوں/strongstrong میں میکسیکو اور امریکہ میں پلے بڑھے۔ چھ بھائی بہن میں وہ ایک تھے۔ انھوں نے ہائی سکول کیا، یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور پھر /strongstrong60 /strongstrongکی دہائی میں پڑھانے لگے۔/strongstrong/strongstrongوہ 17 سال تک یہ خدمت انجام دیتے رہے لیکن اب وہ اپنے غیرمعمولی راز سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔/strong/ppبچپن میں والدین نے کہا تھا کہ میرے اندر جیت کا جذبہ ہے اور چھ سال تک میں اپنے والدین کی اس بات کو سچ سمجھتا رہا۔/ppمیں نے دیر سے بولنا سیکھا لیکن اس امید پر سکول گیا کہ میں اپنی بہن کی طرح پڑھنے لگوں گا۔ ابتدا میں سب ٹھیک تھا۔/ppدوسرے درجے میں ہمیں پڑھنا سیکھنا تھا۔ لیکن میرے لیے یہ کسی چینی اخبار کو کھول کر پڑھنے سے کم نہیں تھا۔ مجھے پتہ نہیں کہ اس میں کیا لکھا تھا اور چھ، سات اور آٹھ سال کے بچے کے طور پر میں اس مسئلے کو حل کرنے سے قاصر تھا۔/ppمجھے یاد ہے کہ میں رات کو دعا کرتا تھا کہ 'خدایا جب میں کل صبح اٹھوں تو مجھے پڑھنا آتا ہو۔' میں رات کو کبھی روشنی جلا کر کتاب دیکھتا کہ کوئی کرشمہ ہوا یا نہیں۔/ppمیں سکول میں بدھو لڑکوں کی قطار میں ہوتا جنھیں پڑھنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ مجھے پتہ نہیں کہ میں وہاں کیسے پہنچا، وہاں سے کیسے نکلوں اور کیا سوال پوچھوں۔/pfigure class="media-landscape full-width"span class="image-and-copyright-container"

/span

/figurepمجھے یاد ہے کہ میں کس قدر سہما ہوا رہتا تھا۔ میں بچوں کا نام بھی نہیں پڑھ کر پکار سکتا تھا۔ اس لیے بچوں سے کہتا کہ وہ خود ہی اپنا نام اور رول نمبر بتا دیں۔ میں دو تین لڑکوں کو شروع میں چھانٹ لیتا تھا جو میرے خیال سے کلاس میں سب سے اچھا پڑھتے لکھتے تھے کہ وہ میری مدد کریں۔ وہ میرے معاون تھے لیکن انھوں نے کبھی مجھ پر شک نہیں کیا کیونکہ استادوں پر شک نہیں کیا جاتا۔/ppپھر میری شادی ہو گئی۔ میں نے سوچا کہ اب اپنی بیوی سے سب سچ بتا دوں۔ آئینے کے سامنے مشق کرتا۔/ppایک شام میں نے اسے بتا دیا: 'کیتھی میں پڑھ نہیں سکتا، مجھے پڑھنا نہیں آتا۔'/ppلیکن اسے میری بات سمجھ میں نہیں آئی وہ یہ سمجھی کہ میں زیادہ کتابیں نہیں پڑھتا۔ محبت اندھی اور بہری ہوتی ہے۔ پھر ہمارا ایک بچہ پیدا ہوا۔ اور جب ہم اسے پڑھا رہے تھے تو کہیں جا کر وہ سمجھی کہ میں کیا کہہ رہا تھا۔/ppمیں نے سنہ 1961 سے 1978 تک پڑھایا اور پھر میں نے نوکری چھوڑ دی اور پھر آٹھ سال بعد میری زندگی اس وقت بدل گئی جب بابرا بش کو میں نے ٹی وی پر تعلیم بالغاں کے بارے میں بات کرتے سنا کیونکہ میں یہ سمجھتا تھا کہ دنیا میں واحد آدمی میں ہی ہوں جو اس پریشانی سے دو چار ہے۔/ppمیں نے ایک رضاکار خاتون کی خدمات حاصل کیں اور ان سے پڑھنے لگا۔ مجھے لگا کہ مجھے ایک نیا جنم ملا ہے۔ جب آپ کو پڑھنا نہیں آتا تو آپ اپنے بچپن میں قید رہتے ہیں۔ نفسیاتی، جذباتی، تعلیمی، روحانی، ہر اعتبار سے آپ بچے ہی رہتے ہیں۔/ppمجھے مکمل مہارت حاصل کرنے میں سات سال لگے لور میرا ضمیر اس وقت جا کر صاف ہوا جب واقعی مجھے پڑھنا آ گیا۔ /ppکیا میں لوگوں کو بتا دوں؟ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ میرے خاندان پر اس کا کیا اثر ہو گا؟ لوگ میرے بچوں کے بارے میں کیا سوچیں گے؟/ppآخر ہمت کر کے میں نے لوگوں کو بتا دیا۔ پہلے تو انھیں یقین ہی نہیں آتا تھا۔ سب سمجھتے تھے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔ /ppلیکن میرا پیغام یہ ہے کہ مجھ جیسے لوگ بدھو نہیں ہوتے اور کسی کام کا آغاز کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی۔ ہم کسی بھی عمر میں سیکھ سکتے ہیں۔/pp48 سال تک میں اندھیرے میں تھا لیکن اب اپنے بھوت سے چھٹکارا حاصل کر چکا ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ پڑھنا مشکل ضرور لیکن ناممکن نہیں۔/p
/div
/div
div style="direction:rtl;"BBCUrdu.com بشکریہ/divbrbrstylebody {direction:rtl;} a {display:none;}/style