امریکہ کے بعد گوئٹے مالا کا بھی یروشلم میں سفارتخانہ

امریکہ کے بعد گوئٹے مالا کا بھی یروشلم میں سفارتخانہ

December 25, 2017 - 09:10
Posted in:

گوئٹے مالا کے صدر جمی موریلس نے اسرائیل میں موجود اپنے سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ خیال رہے کہ جمعرات کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وہ قرارداد منظور کی تھی جس میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس یا مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے۔اس قرارداد کے حق میں 128 ممالک نے ووٹ دیا، 35 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ نو نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔فیس بک پوسٹ میں صدر جمی موریلس نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بات کرنے کے بعد کیا ہے۔ یہ بھی پڑھیےامریکی سفارتخانہ پہلے یروشلم منتقل کیوں نہیں ہوا؟کیا یروشلم اب عربوں کا مسئلہ ہے؟کن ممالک پر امریکی دھمکی کا اثر نہیں ہوا؟یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے: ڈونلڈ ٹرمپگذشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں امریکہ کی یروشلم سے متعلق قراداد کے حق میں ووٹ دینے والے فقط سات ممالک میں سے ایک گوئٹے مالا بھی تھا۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے مخالفت کرنے والے ممالک کو امداد بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ وسطی امریکہ کے غریب ملک گوئٹے مالا کو امداد دینے والے اہم ممالک میں امریکہ بھی شامل ہے۔ اتوار کو اپنے بیان میں صدر مویلس نے کہا کہ انھوں نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ وہ ملک کا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے سے پہلے ضروری اور متعلقہ اقدامات کر لیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ گوئٹے مالا اسرائیل کا دیرینہ دوست ہے۔ اقوام متحدہ میں سعودی سفیر عبداللہ معلمی نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف جنرل اسمبلی میں قرارداد منظور ہونے کے بعد کہا تھا کہ امریکہ کو ایسا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی نے اس قرارداد پر بڑے پیمانے پر ووٹ ڈال کر امریکہ پر اپنا واضح نکتہ نظر ظاہر کیا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}