افغان فوج کی تربیت کے طریقہٴ کار میں تبدیلی کا مطالبہ

افغان فوج کی تربیت کے طریقہٴ کار میں تبدیلی کا مطالبہ

September 22, 2017 - 21:39
Posted in:

غیر جانبدار ادارے کے ایک سربراہ نے متنبہ کیا ہے کہ جب تک افغان فوج کی تربیت کا انداز نہیں بدلا جائے گا، تب تک فراہم کیے جانے والے اربوں ڈالر ضائع جاتے رہیں گے

اسلام آباد — 
ایک امریکی آڈیٹر نے افغان افواج کی جانب سے ملک کو خطرات سے نکالنے اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو پھر سے ابھرنے نہ دینے کے کام میں ناکامی کا ذمہ دار ناقص منصوبہ بندی اور تربیت کو قرار دیا ہے۔
غیر جانبدار ادارے کے ایک سربراہ نے متنبہ کیا ہے کہ جب تک افغان فوج کی تربیت کا انداز نہیں بدلا جائے گا، تب تک فراہم کیے جانے والے اربوں ڈالر ضائع جاتے رہیں گے۔
افغانستان کی تعمیرِ نو کے خصوصی انسپیکٹر جنرل، جان سوپکو کے اس جائزے سے پہلے 3000 اضافی فوجیں افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، جو وہاں موجود امریکی فوجوں کی تعداد میں 25 فی صد سے زائد کا اضافہ ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ امریکی مشن افغانستان کے عوام کے ’’دل اور دماغ جیتنے کے کوشش کرنا ہے‘‘، تاکہ وہ اپنے ملک کے لیے لڑائی جاری رکھیں۔ تاہم، اُنھوں نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ سب سے پہلے افغان افواج کی طرف دھیان مرکوز کرنا ہوگا۔
ادارے کے سربراہ کے بقول، ’’وہ نہیں لڑیں گے اگر اُنھیں یہ شک ہو کہ اُنھیں اس کا معاوضہ نہیں ملے گا‘‘۔ انسپیکٹر جنرل کے دفتر نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کا تعلق گذشتہ 16 برس کے دوران سیکھا گیا، جس کا مقصد آئندہ کی تربیتی کاوشوں میں بہتری لانا ہے۔
سوپکو نے نظام میں موجود مسائل کی جانب بھی نشاندہی کی، جن کا تعلق حوصلے، تعلیم کی کمی، منشیات کے استعمال اور بدعنوانی سے ہے۔
ایک سوال کے جواب میں، اُنھوں نے کہا کہ فوجیوں کی چند بیواہیں پینشن کے فوائد کے حصول کے لیے غلط کاری تک مجبور ہوئیں۔
سوپکو نے جمعرات کو واشنگٹن کے ’سینٹر فور اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘ میں تقریر کی، جس میں اُنھوں نے سوال کیا: ’’کیا کوئی امریکی یہ برداشت کرے گا؟‘‘۔ افغان حکام نے فوری طور پر اس الزام پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔
سوپکو نے کہا کہ گذشتہ 16 برسوں کے دوران، امریکی سکیورٹی امداد میں ملنے والے 70 ارب ڈالر کے حوالے سے شدید مسائل درپیش رہے جن کے نتیجے میں افغان افواج پختہ عزم طالبان کی بغاوت اور دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے، جب کہ معاملہ وہیں کا وہیں دکھائی دیتا ہے۔ طالبان 40 فی صد سے زیادہ افغان علاقے پر قابض ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ نئی افغان حکمت عملی کے پیش نظر، سوپکو نے افغان قومی دفاع اور سلامتی افواج کے بارے میں ’’تازہ‘‘ اور ’’جرات مندانہ‘‘ نقطہ نظر اپنانے کی دلیل دی۔ اُنھوں نے کہا کہ اُن کا ادارہ افغان عوام کو ایک بہتر راہ کی جانب گامزن کرنا چاہتا ہے؛ جو زیادہ کامیاب طریقہ ثابت ہو سکتا ہے، تاکہ امریکہ کی طویل ترین جنگ کا جلد خاتمہ لانے میں مدد کی جا سکے۔

VOA بشکریہa {display:none;}