افغان بچوں کو شام کی لڑائی میں جھونکا جا رہا ہے: 'ہیومن رائٹس واچ' کا الزام

افغان بچوں کو شام کی لڑائی میں جھونکا جا رہا ہے: 'ہیومن رائٹس واچ' کا الزام

October 01, 2017 - 21:12
Posted in:

رپورٹ میں ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب دستے پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ خاص طور پر شیعہ ہزارہ افغانوں کو بھرتی کرکے اُنھیں حربی تربیت فراہم کر رہا ہے، جو اپنے ملک میں عشروں سے جاری مخاصمت کے پیشِ نظر ایران آ کر آباد ہوئے ہیں

واشنگٹن — 
بین الاقوامی حقوق کا دفاع کرنے والے ایک شخص نے الزام لگایا ہے کہ ایران افغان تارکینِ وطن کے 14 برس تک کے نوجوان بچوں کو بھرتی کرکے اُنھیں شام میں سرکاری افواج کےساتھ لڑنے کے لیےبھیج رہا ہے، جو بات جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے۔
اتوار کے روز شائع ہونے والی ایک تفصیلی رپورٹ میں نیویارک میں قائم 'ہیومن رائٹس واچ' نے بتایا ہے کہ ادارے سے تعلق رکھنے والے محققین نے ایرانی قبرستانوں میں قبروں پر لگے ہوئے کتبوں کی تصاویر کا جائزہ لیا ہے، جن میں آٹھ قبریں افغان بچوں کی ہیں، جو بظاہر شام میں لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے۔
رپورٹ میں ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب دستے پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ خاص طور پر شیعہ ہزارہ افغانوں کو بھرتی کرکے اُنھیں حربی تربیت فراہم کر رہا ہے، جو اپنے ملک میں عشروں سے جاری مخاصمت کے پیشِ نظر ایران آ کر آباد ہوئے ہیں۔
'ہیومن رائٹس واچ' نے انتباہ جاری کیا ہے کہ ''فاطمی ڈویژن میں 14 برس کی عمر تک کے نوجوان افغان بچے لڑ چکے ہیں، جو خصوصی طور پر ایک افغان مسلح جتھہ ہے جس کی ایران حمایت کرتا ہے، جو شام کے تنازع میں سرکاری افواج کے ساتھ ساتھ لڑ رہا ہے۔
بین الاقوامی قانون کی رو سے، 15 برس سے کم عمر کے بچوں کو بھرتی کرنا اور متحرک مخاصمانہ کارروائیوں میں استعمال کرنا جنگی جرم شمار ہوتا ہے''۔

VOA بشکریہa {display:none;}