اردو، ہندی چولی پہن لے، بھلے پنجابی آنچل اوڑھ لے

اردو، ہندی چولی پہن لے، بھلے پنجابی آنچل اوڑھ لے

December 14, 2017 - 19:24
Posted in:

افضال احمد سید کی ایک نظم ہے جس میں وہ لکھتے ہیںجس سے محبّت ہو اسے نکال لانا چاہیے آخری کشتی پرایک معدوم ہوتے شہر سے باہرپچھلے کچھ برسوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں اردو سے محبّت کرنے والے اپنی ’محبوبہ‘ کو دقیانوسی اور تنگ ذہنی کے طوفانوں سے بچاتے ہوئے نکال کر لا رہے ہیں اور اب یہ محبوبہ نئے دور میں ایک نیا لباس پہنے، نئی ادا سے ہنس بول رہی ہے۔اردو کے بارے میں یہ بھی پڑھیےانڈیا: اردو شاعروں کی نئی نسلاردو لغت انٹرنیٹ اور موبائل ایپ پربرطانوی شہریوں کو اردو سیکھنے کا مشورہ

اس کے عاشقوں میں سب سے نمایاں چہرہ ہے 'ریختہ'۔ سنجیو صراف ایک انجنیئر اور کاروبای شخصیت ہیں جنہیں کالج کے دنوں سے ہی اردو شاعری کا بہت شوق تھا مگر اردو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے۔ کاروبار سنبھالنےاور اپنا کیرئیر بنا لینے کے بعد اردو کی طرف ایک بار پھر رخ کیا۔ سیکھنے کا ذریعہ ڈھونڈنے نکلے تو دیکھتے دیکھتے ایک شاندار ویب سائٹ 'ریختہ ڈاٹ آرگ' بنا ڈالی جو نہ صرف شعر و شاعری کا ذخیرہ ہے، بلکہ ساتھ ساتھ لغت کا کام بھی کرتی ہے۔ پچھلے تین سال سے جشنِ ریختہ نام کا ایک بہترین ادبی فیسٹیول بھی شروع ہو چکا ہے۔صراف یہ بات سمجھتے ہیں کی زبان بچانے کا مطلب صرف ’نستعلیق پڑھنا لکھنا‘ نہیں، اردو اپنے آپ میں ایک مکّمل تہذیب ہے۔ اور تہذیب بچانے کا ایک ہی راستہ ہے: وقت کے ساتھ چلنا اور فرقہ پرستی سے پرہیز۔‘بدلتے وقت کے ساتھ ادبی محفلوں کا روپ رنگ بھی بدلا۔ کئی شہروں میں 'اوپن مائیک' مشاعروں کا چلن شرو ع ہوا ہے۔ روایتی مشاعروں سے مختلف، یہ ایک کھلا سٹیج ہے جہاں کوئی بھی اپنا کلام پیش کر سکتا ہے۔ کیوں کہ بڑے شہروں میں ہر زبان سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہیں اس لیے اوپن مائیک کئی زبانوں کی بزم ہے، (اردو خود بھی اسی طرح کی گھلی ملی بزم ہے!) جس میں نوجوانوں کو آسانی سے موقع مل جاتا ہے ۔محفلِ مشاعرہ ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے. نئی بات یہ ہے کی جو پیڑھی اردو کا دامن چھوڑ چکی تھی وہ اب اُس کی طرف لوٹنا چاہتی ہے۔ مگر یہ کیسے ہوا؟

پہلی شرط تھی کہ اردو کے ماتھے پہ جو 'مسلمان' کا ٹھپہ لگ گیا تھا اسے مٹانا۔ ہندوستان میں ہی پیدا ہونے والی تہذیب کسی ایک قوم کی جاگیر نہیں تھی۔ 'کئی چاند تھے سرِ آسماں' شمس الرحمٰن فاروقی کا ناول ہے جو 1857 سے پہلے کا ادبی منظر دکھاتا ہے۔ یہ ناول بتاتا ہے کہ ڈیڑھ سو سال پہلے ہندی اور اردو کو دو مختلف زبانیں نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن 1947 میں ملک کے ساتھ ساتھ زبانیں بھی تقسیم ہوگئیں۔جب پاکستان نے اردو کو اپنی 'سرکاری' زبان بنا لیا تو ہندوستان میں اردو کو زک پہنچی۔ ادیبوں کے پاکستان یا دوسرے ممالک چلے جانے سے نقصان تو ہوا ہی، سکولوں اور کالجوں میں ہندی، انگریزی، سنسکرت یا دوسری زبانوں کا زیادہ استعمال ہوتا رہا۔ اردو میڈیم سکول میں زیادہ تر مسلمان بچے جاتے تھے اور وہ بھی ان کے جن کے ماں باپ انگریزی سکولوں کی فیس ادا نہ کر پاتے۔ لیکن نئی نسل کا رشتہ زبان سے ٹوٹا نہیں۔ عوام کے دلوں میں اردو زندہ رہی غزلوں، قوالیوں، فلمی گیتوں اور ڈائلوگ کی وجہ سے۔اردو کو ہمعمر دوستوں اور ٹیکنالوجی کی ضرورت تھی۔

نوجوان گرافک ڈیزائنرز، فلمسازوں اور شاعروں نے کافی حد تک یہ کمی پوری کر دی ہے۔ یہ طرح طرح کی تدابیر کرتے رہتے ہیں تاکہ جن لوگوں کا ادب سے کوئی خاص رشتہ نہیں ہے، وہ بھی زبان کا لطف اٹھا سکیں۔ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام وغیرہ پر محفل سال بھر سجی رہتی ہے۔ کہیں چٹکلے تو کہیں خاکے اور مزاحیہ میم۔۔۔ مثلاً، 'عشق اردو' نام کا ایک فیس بک پیج ہے جو لوگوں کو ہنساتا رہتا ہے۔ انہوں نے ایک پوسٹر تیّار کیا ہے جس میں 'قتلِ عام' نستعلیق اور انگریزی میں لکھا ہے اور نیچے ایک آم بنا ہے جو خنجر سے کٹ رہا ہے!

حال ہی میں ریختہ فیسٹیول کے دوران ایک اور نیا خیال سامنے آیا، جسکا نام 'ٹھگ لائف شاعری' رکھا گیا۔ پہلا شعر واٹس ایپ پر 'بریک اپ' کرتی ہوئی معشوقہ کو جواب دیتا ہے! اُدھر یوٹیوب پر آپ کو سینکڑوں ویڈیوز ملیں گی جیسے 'ہندی کویتا' اور 'اردو سٹوڈیو' نام کے دو چینل ہیں، جہاں جانے پہچانے اداکار اور ادیب اپنی پسندیدہ نظمیں پڑھتے ہیں۔ ممبئی، دلی، لکھنئو، چندی گڑھ اور کئی شہروں میں ادیب اردو افسانوں کو ڈراموں کی شکل دے رہے ہیں۔ جو سلسلہ عصمت چغتائی اور منٹو سے شرو ع ہوا وہ اب انتظار حسین اور نیّر مسعود کی طرف بڑھ رہا ہے۔بہرحال، میرے خیال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اردو کو چاہنے والے اس کے ساتھ سختی سے پیش نہیں آتے۔ اُسے آزاد رہنے دے رہے ہیں۔ اردو چاہے تو ہندی کی چولی پہنے، یا پنجابی کا آنچل اوڑھ لے، بھلے انگریزی کی گاڑی میں بیٹھ کر سیر کو نکل جائے۔ خواہ پچھلی صدی سے دور نکلتی کشتی چلا رہے ہوں یا گاڑی چلانے کے لیے تیار بیٹھے ہوں، اردو کے عاشق اپنی اس ’محبوبہ‘ کی خدمت کر رہے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}