ارجنٹائن کو تین دن سے لاپتہ آبدوز کی تلاش

ارجنٹائن کو تین دن سے لاپتہ آبدوز کی تلاش

November 18, 2017 - 21:06
Posted in:

ارجنٹائن کی بحریہ نے جنوبی بحر اوقیانوس میں تین روز سے لاپتہ آبدوز کی تلاش کا کام تیز کر دیا ہے۔ اس آبدوز میں عملے کے 44 ارکان سوار ہیں۔ارجنٹائن کے صدر موریکو ماکری کا کہنا ہے کہ حکومت عملے کے خاندانوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 'سان ہوان‘ نامی اس آبدوز کی جلد از جلد تلاش کو ممکن بنانے میں مدد کے لیے تمام قومی اور بین الاقوامی وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔‘ بحریہ کے ترجمان اینریکے بالبی نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ 'ہم آبدوز کو تلاش نہیں کر پائے ہیں اور اُس کے ساتھ ہمارا بصری یا ریڈار پر مواصلاتی رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔'امریکی بحری جہاز کو حادثہ، دس اہلکار لاپتہامریکہ کی چین سے بحری ڈرون چھوڑنے کی درخواستیہ ڈیزل الیکٹرک آبدوز، جنوبی امریکہ کے جنوبی کنارے اوشوآئیا سے ایک معمول کے مشن کے بعد بیونس آئرس کے جنوب میں اپنے بحری اڈے مار ڈیل پلاٹا واپس آ رہی تھی۔ بحریہ کی کمانڈ کے ساتھ اس کا آخری رابطہ بدھ کی صبح ہوا تھا۔خیال ہے کہ شاید آبدوز میں بجلی کی فراہمی منقطع ہونے کی وجہ مواصلات میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ بحری پروٹوکول کے مطابق اگر کسی آبدوز کا رابطہ منقطع ہو جائے تو اسے سطح پر آ جانا چاہیے۔ مسٹر بالبی کہتے ہیں کہ 'ہمیں توقع ہے کہ وہ سطح پر ہے۔'واضح رہے کہ جرمنی کی تیارہ کردہ اس آبدوز کا 1983 میں افتتاح کیا گیا تھا جو ارجنٹائن کے بحری بیڑے میں شامل تین آبدوزوں میں سب سے نیا اضافہ تھا۔مسٹر بالبی نے بتایا کہ ارجنٹائن کی فضائیہ کے ایک جہاز ہرکیولیز سی ون 30 کے ساتھ ساتھ امریکی خلائی ادارے ناسا کا ایک سراغ رساں طیارہ پی تھری آبدوز کی تلاش کے کام میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ارجنٹائن نےایک جنگی اور دو توپ بردارجہازوں کے ساتھ جزیرہ والدیز کے جنوب مشرق میں اُس علاقے کے اردگرد آبدوز کی تلاش کا کام شروع کیا ہے جہاں آخری بار اُس سے رابطہ ہوا تھا۔ لیکن اب تک اس کے ٹھکانے کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔مسٹر بالبی نے کہا کہ آبدوز کے ساتھ مواصلاتی رابطہ ختم ہوئے کئی گھنٹے گزر گئے ہیں جو باعث تشویش ہے۔انھوں نے کہا کہ 'آبدوز کے ساتھ کوئی بصری یا رڈار سے رابطہ نہ ہونے کےبعد ریسکیو آپریشن کو باضابطہ طور پر اب گریڈ کرکے تلاش اور ریسکیو آپریشن کر دیا گیا۔مسٹر بالبی کے بقول 'تلاش کے کام میں کئی کشتیوں اور جہازوں کے حصہ لینے کے باوجود پتہ لگانے میں مشکل پیش آرہی ہے۔'تیز ہواؤں اور اونچی لہروں نے امدادی کارکنوں کے کام کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔واضح رہے کہ ساحل سے 430 کلو میٹر دور اس آبدوز کے غائب ہونے کے بعد برطانیہ سمیت جنوبی امریکہ کے کئی ممالک برازیل، چلی، یوروگوئے، پیرو اور جنوبی افریقہ نے رسمی طور پر تلاش کے کام میں مدد کی پیش کش کی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}