اب کیمرا بتائے گا کہ آپ خوش ہیں یا خطرناک

اب کیمرا بتائے گا کہ آپ خوش ہیں یا خطرناک

July 18, 2018 - 05:38
Posted in:

چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی پہلے سے زیادہ جدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور اب بعض کمپنیاں دعویٰ کر رہی ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف اب ہمارے احساسات کو بلکہ مشکوک رویوں کو بھی بھانپ سکتی ہے۔اس ٹیکنالوجی سے شخصی آزادیوں اور ہماری نجی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ماہرین کا کہنا ہے کہ چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی دہائیوں سے موجود ہے لیکن حالیہ برسوں میں کمپیوٹر کی استعداد میں بہتری اور مصنوعی ذہانت میں ترقی کی وجہ سے اس نے تیزی سے ترقی کی ہے۔اب اس ٹیکنالوجی کا استعمال لوگوں کو شناخت کرنے کے لیے سرحدوں پر کیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ سمارٹ فونز کو کھولنے، مجرموں کی شناخت اور بینکوں میں رقم کی منتقلی کی اجازت میں استعمال ہو رہا ہے۔تاہم بعض کمپنیاں دعویٰ کر رہی ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی اب ہمارے جذبات کی کیفیت کو بھی شناخت کر سکتی ہے۔ 1970 کی دہائی سے ماہرینِ نفسیات کے مطابق کسی تصویر یا ویڈیو کو دیکھنے کے بعد وہ اس شخص کے چھپے’ مائیکرو تاثرات‘ کو پہچان سکتے ہیں اور اب ٹیک کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت والے سافٹ ویئر الگوردم اور ہائی ڈیفینیشن یا اعلیٰ کوالٹی کے کیمروں کی مدد سے اس عمل کو زیادہ درستی اور تیزی سے سرانجام دے سکتی ہیں۔اس بارے میں مزید پڑھیےچین: 60 ہزار کے ہجوم میں ملزم کی شناختصارفین فیس بک کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کر سکتے ہیںگوگل ٹیکنالوجی امریکی فوج کے استعمال میں ’اسلام آباد میں نصب کیمرے چہرہ شناخت نہیں کر سکتے‘

انھوں نے کہا کہ اس وقت ہم مشکوک رویوں یا حرکات کی نشاندہی کر سکتے ہیں لیکن کسی کے ارادے کے بارے میں نہیں بتا سکتے۔تاہم پرائیویسی انٹرنیشنل کے فریڈرک کلٹویونر کا کہنا ہے کہ’اس میں اہم سوال یہ ہے جو ہم ہمیشہ خود سے کہتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی کون بنا رہا ہے اور کس مقصد کے لیے؟ کیا یہ ہماری مدد کے لیے ہے یا اس کا مقصد ہمارے بارے میں اندازہ قائم کرنا، رسائی حاصل کرنا اور ہمیں کنٹرول کرنا ہے؟

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}