آصف زرداری نے ایف آئی اے سے وقت مانگ لیا

آصف زرداری نے ایف آئی اے سے وقت مانگ لیا

July 11, 2018 - 19:33
Posted in:

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات میں بدھ کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کے روبرو پیش نہیں ہوئے۔ ان کی جانب سے ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک نے پیروی کی اور تفتیشی افسر سے 31 جولائی تک کا وقت طلب کیا۔نامہ نگار ریاض سہل کے مطابق فاروق ایچ نائیک کی جانب سے تحریری طور پر جمع کرائے گئے جواب میں تفتیشی افسر کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ ’آپ کے خط میں ظاہر کی گئی منتقلی 2014 کی ہے، جبکہ ایف آئی آر 2018 میں درج کی گئی تقریباً چار سال بعد، جو اس کو مشکوک بناتی ہے اور ایک ایسے وقت پر جب 25 جولائی کو عام انتخاب کا انعقاد ہو رہا ہے‘۔یہ بھی پڑھیےجعلی اکاؤنٹس سے اربوں روپے کس کس کو منتقل ہوئے؟آصف زرداری کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم’منی لانڈرنگ‘:زرداری ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوں گےتحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ ’میرے موکل کو جو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ہیں اس خط کے ذریعے مصروف رکھنا ان کی انتخابی مہم کو متاثر کرنا ہے، یہ دستور پاکستان میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، جو غیر جانبدار اور شفاف انتخابات کی ضمانت دیتا ہے‘۔فاروق ایچ نائیک کی جانب سے جمع کرائے گئے اس تحریری جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’یہ حقیقت ہے کہ میےا موکل زرداری گروپ کی روزمرہ کی منتقلیوں سے واقف نہیں ہیں، وہ صدر پاکستان کے منصب پر بھی فائز رہے ہیں اور آپ کی تحقیقات میں مکمل طور پر تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ خود پیش ہوں گے یا اپنے وکیل کے ذریعے 25 جولائی سے 31 جولائی تک اپنا جواب پیش کریں گے، لہذا آپ سے گزارش کی جاتی ہے کہ 31 جولائی تک کا وقت دیا جائے‘۔آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کی جانب سے بھی اسی نوعیت کا تحریری جواب جمع کرایا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ پاکستان پیپلزپارٹی خواتین وِنگ کی سربراہ ہیں اور پی ایس 10 لاڑکانہ سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔تفتیشی افسر کو فاروق ایچ نائیک نے تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ فریال تالپور الیکشن مہم میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے تمام ریکارڈ جمع کر کے جواب دینا ممکن نہیں ہے لہذا انہیں بھی مہلت دی جائے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}