آزاد ہوں اور بہت جلد واپس لبنان چلا جاؤں گا: سعد حریری

آزاد ہوں اور بہت جلد واپس لبنان چلا جاؤں گا: سعد حریری

November 13, 2017 - 01:26
Posted in:

لبنان کے وزیراعظم سعد حریری کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے تحفظ کی خاطر استعفیٰ دیا اور آئندہ چند دنوں میں سعودی عرب سے واپس لبنان لوٹ جائیں گئے۔ایک دن پہلے سنیچر کو لبنان کے صدر نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ریاض میں ایک ہفتہ قبل مستعفی ہونے والے لبنانی وزیراعظم سعد حریری کی صورتحال کے بارے میں وضاحت کرے۔ اتوار کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سعد حریری نے فیوچر ٹی وی کو بتایا کہ’ وہ آزاد ہیں اور بہت جلد لبنان واپس چلے جائیں گے۔‘سعودی عرب میں کیا ہو رہا ہے؟ بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہاپنی لڑائی میں لبنان کو استعمال نہ کریں: امریکہحریری کے استعفے کا مقصد خطے میں کشیدگی بڑھانا ہے: ایران لبنانی وزیرِ اعظم کا ’جان کے خطرے‘ کی وجہ سے استعفیٰایران براہ راست جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے: محمد بن سلمانسعد حریری نے ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’میں نے استعفیٰ دیے دیا ہے اور میں بہت جلد لبنان واپس جا رہا ہوں اور وہاں آئینی طریقے سے مستعفی ہوں گا۔‘انٹرویو میں سعد حریری نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا کہ وہ سعودی عرب کے دباؤ یا دھمکی کی وجہ یہ سب کر رہے ہیں۔سعد حریری نے اعتراف کیا کہ انھوں نے معمولی حالات میں استعفیٰ نہیں دیا اور وہ چاہتے تھے کہ ان کے ملک کو ایک ’مثبت صدمہ‘ پہنچے۔ خیال رہے کہ لبنان کے صدر ميشال عون نے ابھی تک سعد حریری کا استعفیٰ قبول نہیں کیا ہے۔سعد حریری نے رواں ماہ کے شروع میں اپنی زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر شدید تنقید کی تھی اور اس اعلان کے بعد سے منظرعام پر نہیں آئے تھے جس کے بعد ایران اور لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے سعد حریری کو یرغمال بنا رکھا ہے۔سنیچر کو لبنانی صدر ميشال عون نے کہا تھا کہ ’ایک ہفتہ قبل وزیراعظم سعد حریری کی جانب سے استعفیٰ دیے جانے کے بعد سے ان کی حالت کے بارے میں ابہام کی کیفیت موجود ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ان کی جانب سے کیے گئے یا ان سے منسوب تمام اقدامات اور موقف سچائی کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔‘لبنان کے صدر نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کی وضاحت کرے کہ کیوں ایک ہفتہ قبل ریاض میں مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد سے وہ واپس لبنان نہیں لوٹے ہیں۔

ادھر فرانس کے صدر نے جمعرات کو سعودی عرب کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔ انھوں نے سعودی حکام کے ساتھ یمن کی صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا اور لبنان میں استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔خدشہ ہے کہ لبنان سعودی عرب اور ایران کے درمیان وسیع علاقائی تنازع مزید الجھ سکتا ہے کیونکہ سعد حریری کے مستعفیٰ ہونے کے بعد سے تینوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔طاقتور شیعہ تحریک حزب اللہ ایران کی حمایتی ہے جس نے سعودی عرب پر لبنان اور اس خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}