آرمڈ فورسز کے افسر کی سول سروس میں تعیناتی، ایف پی ایس سی سے جواب طلب

آرمڈ فورسز کے افسر کی سول سروس میں تعیناتی، ایف پی ایس سی سے جواب طلب

May 08, 2018 - 22:41
Posted in:

اسلام آباد (آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے آرمڈ فورسز کے حاضر سروس آفیسرز کی سول سروسز میں تعیناتی کے معاملے پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے سوالات کے جواب مانگ لیے۔ عدالت نے سیکرٹری دفاع اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 12 مئی تک ملتوی کر دی۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل رکنی بینچ نے شاہد نامی شہری کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کن بنیادوں پر آرمڈ فورسز کے
افسران کو سول سروس میں تعینات کیا جاتا ہے؟ کیا آرمڈ فورسز کے افسر کیلیے سول سروس میں کوئی کوٹہ مختص ہے؟ اگر کوٹہ مختص ہے تو کیا آرمڈ فورسز کے افسران مقابلے کے امتحان میں شریک ہوتے ہیں؟ کیا مقابلے کے امتحان میں منتخب کامیاب افسر فورس سے ریٹائرمنٹ لیتے ہیں؟ دوران تربیت کوئی کیڈٹ سول سروس جوائن کرتا ہے تو ملٹری اکیڈمی سے ریلیز کا کیا طریقہ کار ہے؟ کیڈٹ کو جانے کی اجازت دینے کے بدلے کتنی رقم وصول کی جاتی ہے؟ ایک میجر یا کیپٹن پر حکومت پاکستان کا کتنا خرچ آتا ہے؟ اور کیا سول سروس جوائن کرنے کی صورت میں یہ رقم واپس لی جاتی ہے؟۔ بعد ازاں عدالت نے چیئرمین ایف پی ایس سی کو 14 مئی تک سوالات کا جواب جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ واضح رہے شاہد امان نامی شہری کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی جس میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو فریق بنایا گیا تھا۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}