’دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا ہوگا‘

Printer-friendly versionSend by emailPDF version

’دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا ہوگا‘

اس بم دھماکے میں ہیروشیما میں کم از کم ایک لاکھ 40 ہزار افراد کی موت واقع ہوئی

دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکہ کی جانب سے گرائے گئے پہلے ایٹم بم کی 70 ویں برسی منائی جارہی ہے اور اس موقع پر جاپان نے دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہیروشیما پر بمباری کے 70 سال (تصاویر)اس حوالے سے ایک تقریب ہیروشیما کی یادگاری پارک میں منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم شنزو ابے نے بھی شرکت کی اور دریائے موتویاسو میں ہزاروں کی تعداد میں لالٹینیں چھوڑی گئیں۔ہیروشیما پر حملے اور اس کے تین دن بعد ناگاساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بم کے بعد دوسری جنگ عظیم کا اختتام ہو گیا تھا۔تاہم اس بم دھماکے میں ہیروشیما میں کم از کم ایک لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔6 اگست سنہ 1945 کو صبح آٹھ بج کر دس بجے امریکی جہاز بی 29 سےگرایا جانے والا ’انولا گے‘ نامی یورینیم بم زمین کی سطح سے تقریباً 1800 فٹ بلندی پر پھٹا تھا۔قیاس ہے کہ اس روز 70 ہزار افراد موت کا شکار ہوئے تھے۔ کئی مہینوں تک رہنے والے زہریلی تابکاری اثرات سے بے شمار افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے۔ہیروشیما کے امن پارک میں منعقدہ تقریب میں چار ہزار افراد نے شرکت کی۔ یہ بم دھماکے کا مرکزی مقام بھی تھا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شنزو آبے نے عالمی دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا۔

ہیروشیما کے امن پارک میں منعقدہ تقریب میں چار ہزار افراد نے شرکت کی

ان کا کہنا تھا کہ ایٹم بم نے ہیروشیما میں نہ صرف ہزاروں افراد کو مارا بلکہ اس کی وجہ سے زندہ بچ جانے والوں کو بھی ناقابل برداشت مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ان کا کہنا تھا: ’آج ہیروشیما دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہے۔ اور ثقافت اور ترقی کا شہر بن چکا ہے۔‘‘70 سال گزر چکے ہیں اور میں بین الاقوامی امن کی ضرورت پر زور دیتا ہوں۔‘ہیروشیما میں تقریبات کا آغاز بدھ کو بدھ مت کے پیشواؤں اور مقامی افراد کے مظاہرے سے ہوا۔ اس کے علاوہ بچوں نے ایٹم بم ڈوم نامی مقام کے سامنے ’مردہ حالت‘ میں لیٹ کر بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ یہ ایٹم بم دھماکے میں بچ جانے والے چند مقامات میں سے ایک ہے۔وزیراعظم شنزے آبے اور ہیروشیما کے میئر کازومی ماتوسی کے ساتھ جاپان میں امریکی سفیر کیرولائن کینیڈی نے بھی جمعرات کو منعقد ہونے والی سرکاری تقریب میں شرکت کی، جس میں خاموش دعا اور امن کا نشان فاختہ فضا میں آزاد کی گئیں۔ہیرشیما کے میئر ماتوسوئی نے بھی جوہری ہتھیاروں کو ’برائی‘ قرار دیا اور اس دنیا سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں۔

BBCUrdu.com بشکریہ