’جموں میں سکیورٹی فورس کی بس کے حملہ آور پاکستانی تھے‘

Printer-friendly versionSend by emailPDF version

’جموں میں سکیورٹی فورس کی بس کے حملہ آور پاکستانی تھے‘

سہیل حلیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

ہم اس حملے اور سرحد پار سرگرم دہشت گردوں کی جانب سے جموں و کشمیر میں امن کے ماحول کو مزید خراب کرنے کی کوششوں کی سخت مذمت کرتے ہیں: بھارتی وزیر داخلہ

بھارت کا کہنا ہے کہ جموں خطے کے ضلع ادھم پور میں بارڈر سکیورٹی فورس کی ایک بس پر فائرنگ کرنے والے شدت پسندوں کا تعلق پاکستان ہے۔بدھ کو ہونے والے اس حملے میں بی ایس ایف کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ جوابی فائرنگ میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا تھا جبکہ دوسرے کو کچھ دیر بعد قریب کے ہی ایک گاؤں میں مقامی لوگوں نے پکڑ لیا تھا اور بعد میں اسے پولیس کے حوالے کر دیاگیا۔وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’جموں میں ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران گرفتار ہونے والے شدت پسند نے اپنا نام محمد نوید عرف عثمان بتایا ہے۔ وہ فیصل آباد پاکستان کا رہنے والا ہے۔اس نے بتایا کہ مارے گئے ساتھی کا نام محمد مومین ہے جو بہاولپور کا رہائشی ہے۔ شدت پسندوں سے دو کلاشنکوفیں، میگزین، گرینیڈ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔‘وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ہم اس حملے اور سرحد پار سرگرم دہشت گردوں کی جانب سے جموں و کشمیر میں امن کے ماحول کو مزید خراب کرنے کی کوششوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘اس پہلے بھارت نے گذشتہ ماہ پنجاب کے سرحدی ضلع گورداس پور میں بھی شدت پسندوں کے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔ شدت پسندوں نے 27 جولائی کو پولیس سٹیشن پر حملہ کیا تھا جس میں تینوں حملہ آوروں سمیت 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔اس حملے کے بعد بھی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ جی پی ایس کے معائنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور سرحد پار پاکستان سے آئے تھے جبکہ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کیا تھا۔اودھم پور میں بدھ کے واقعہ کے بعد موبائل فون سے بنائی گئی ایک ویڈیو ٹی وی چینلوں پر دکھائی جا رہی ہے جس میں ایک نوجوان کو یہ کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ فیصل آباد کا رہنے والا ہے اور اپنے ساتھی کے ساتھ لائن آف کنٹرول پار کر بھارت میں داخل ہوا تھا۔

گذشتہ ماہ پنجاب کے سرحدی ضلع گورداس پور میں بھی شدت پسندوں کے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا

بھارتی ذرائع ابلاغ میں اس شخص کی گرفتاری کو ’ایک اور اجمل قصاب کی گرفتاری‘ بتایا جا رہا ہے اور یہ خبر مستقل ٹی وی چینلوں اور اخباروں میں چھائی ہوئی ہے۔انگریزی کے اخبار ٹائمز آف انڈیا کی سرخی ہے: ’پاکستان پھر رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، قصاب نمبر دو، سرحد پار سے آنےوالا دہشت گرد گرفتار۔‘اخبارات نے اس ویڈیو میں اس شخص کی بات چیت کی تفصیلات بھی نمایاں طور پر شائع کی ہیں، جس میں وہ بظاہر یہ بھی کہتا ہے کہ وہ ’ہندوؤں کو مارنے آیا تھا۔‘اخباروں کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان دیکھنے میں بھی بالکل اجمل قصاب جیسا لگتا ہے۔ اس سے پوچھ گچھ کی تفصیلات بھی سامنے آ رہی ہیں لیکن ان کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہے۔اب اس سے جموں میں انٹیلی جنس ایجنسیاں پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔لیکن اس حملے کے باوجود فی الحال امکان ہے کہ بھارت اور پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان مجوزہ بات چیت منسوخ نہیں کی جائے گی۔دونوں ممالک کے مشیر سلامتی اُمور کے درمیان ملاقات 23 اور 24 اگست کو دہلی میں ہونے کا امکان ہے۔جموں و کشمیر میں مسلح تشدد کی تازہ لہر میں کم از کم دس افراد کی ہلاکتوں کے بعد سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔اس دوران لائن آف کنٹرول پر بھی بھارت اور پاکستان کی افواج کے مابین جھڑپوں سے کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہ