’امریکی کارروائیوں کے دائرہ کار میں اضافے کا امکان‘

Printer-friendly versionSend by emailPDF version

’امریکی کارروائیوں کے دائرہ کار میں اضافے کا امکان‘

امریکی محکمۂ دفاع کے ایک سینیئر اہلکار نے عندیہ دیا ہے کہ صدر اوباما افغان سکیورٹی فورسز کی طالبان مخالف کارروئیوں میں مدد کے لیے امریکی فوج کے دائرہ کار میں اضافہ کر سکتے ہیں۔اہلکار نے نام نے ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ صدر اوباما کے فیصلے کے تحت افغانستان میں امریکی فضائی طاقت کے استعمال کو بڑھایا جائے گا۔اس کے علاوہ افغان سکیورٹی فورسز کی فضائی مدد میں بھی اضافہ ہو گا۔محکمۂ دفاع کے اہلکار کے مطابق افغانستان میں تعینات تقریباً دس ہزار امریکی فوجی براہ راست جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گے۔

افغان طالبان کے حملوں میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں

امریکہ نے افغانستان میں اپنے جنگی مشن کو 2014 کے اختتام پر ختم کر دیا تھا اور اس وقت ملک میں تعینات امریکی فوجی افغان مسلح افواج کی تربیت اور مدد فراہم کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ امریکی اہلکار کی جانب یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان میں طالبان نے ملک کے جنوبی علاقوں میں متعدد عسکری کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس کے علاوہ طالبان کے امیر ملا منصور اختر کی پاکستان میں ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد منتخب کیے جانے والے نئے امیر مولوي ہبت اللہ اخونزادہ کی قیادت میں تشدد کے واقعات میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔چند دن پہلے ہی کابل میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں ایک رکنِ پارلیمان اور کم از کم دیگر تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔امریکہ نے افغانستان میں اپنے جنگی مشن کو 2014 کے اختتام پر ختم کر دیا تھا اور اس وقت ملک ملک میں تعینات امریکی فوجی افغان مسلح افواج کی تربیت اور مدد فراہم کر رہے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہ