یورو ٹنل میں گھسنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں کمی

Printer-friendly versionSend by emailPDF version

یورو ٹنل میں گھسنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں کمی

منتظمین کے خیال میں اب بھی کچھ تارکین وطن برطانیہ جارہے ہیں

یورو ٹنل کے منتظمین کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ کے اختتام تک کیلے کے قریب ایک رات میں یورو ٹنل ٹرمینل میں گھسنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی تعداد 2000 سے کم ہو کر 150 ہو گئی ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کیے جانے والے اضافی حفاظتی اقدامات سے ’واضح فرق‘ آیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ نقب لگانے کی کوششیں ’ناقابل قبول‘ ہیں۔کیلے میں تارکین وطن رات کے وقت چینل کے ذریعے سے برطانیہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ وہ یورو ٹنل کی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے 70 لاکھ یوروز خرچ کر رہے لیکن وہ اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس پر اب بھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔برطانوی حکام کی رقم سے یورو ٹنل کی حدود میں اضافی باڑ، بلند دیواروں کی تعمیر اور یورو ٹنل کے پلیٹ فارم کی حفاظت کے لیے بڑی دھاتی رکاوٹوں کی تنصیب کے ذریعے تارکین وطن کے لیے تنل کو عبور کرنا مشکل بنایا جا رہا ہے۔تاہم فرانس کے پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایاہے کہ باڑ لگانا ’ وقتی حل‘ ہے۔ تارکین وطن با آسانی ان جگہوں کا رخ کریں گے جہاں سکیورٹی کمزور ہوگی۔یوروٹنل منتظمین کا کہنا ہے کہ پولیس کی تعداد میں اضافے سے تارکین وطن ٹرمینل کے قریب جانے سے گریز کر رہے ہیں جس سے مسافر اور مال بردار ٹرینوں کی آمد و رفت میں درپیش مشکلات میں کمی آئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ رواں برس کشتیوں کے ذریعے یورپ میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد ڈھائی لاکھ تک پہنچ سکتی ہے

انھوں نے مزید کہا کہ نقب لگانے کی کوششوں میں کمی ’بڑی کامیابی ‘ ہے اور جو افراد ٹرمینل تک پہنچے پائے ان کے بڑی تعداد کو سکیورٹی گارڈز نے پکڑ لیا۔تاہم منتظمین کے خیال میں اب بھی کچھ تارکین وطن برطانیہ جا رہے ہیں۔اس سے قبل برطانوی اور فرانسیسی حکام کے درمیان حفاظتی اقدامات پر اتفاق ہوا تھا۔برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے سنیچر کو کیلے بحران پر حکومتی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ غیرقانونی تارکین وطن برطانیہ میں داخل نہ ہو سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بحرہ روم میں کشتیوں پر سوار ہو کر یورپ میں آباد ہونے کے حق کے درمیان تعلق کو توڑنا ہوگا۔‘حکام کا کہنا ہے کہ رواں برس کشتیوں کے ذریعے یورپ میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد ڈھائی لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔یاد رہے کہ سنیچر کو بحیرہ روم میں کشتی حادثے میں 40 تارکین وطن ہلاک ہوئے۔

BBCUrdu.com بشکریہ