کیا یہ یورپ کے خلاف اعلان جنگ ہے؟

Printer-friendly versionSend by emailPDF version

کیا یہ یورپ کے خلاف اعلان جنگ ہے؟

قندیل شام
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

پیرس حملوں میں 127 افراد مارے گئے

پیرس میں حملوں سے خود کو ’دولتِ اسلامیہ‘ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے ایک نیا جہادی اور سٹرٹیجک موڑ لیا ہے۔

پیرس حملوں میں 300 افراد زخمی ہوئے

مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے ماہر کامران بخاری کے مطابق ’سافٹ ٹارگٹس‘ کے انتخاب کی وجہ سے ایک وقت میں ایک سے زیادہ جگہوں پر حملے کرنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایسے حملے نہ صرف بہیمانہ ہیں، بلکہ ان کا مقصد اپنی صلاحیتوں کی نمائش کرنا بھی ہے۔’دولت اسلامیہ نے ثابت کیا کہ وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں سے باہر بھی کسی مقام پر اپنی عسکری صلاحیت کا مظاہرہ بھی کر سکتے ہیں۔‘پیرس میں ہونے والے حملوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اس نے خود کو پہلے سے زیادہ منظم کیا ہے جس سے یہ زیادہ مہلک ہوگئی ہے اور کسی مقام پر شدت پسندی کی ایک بڑی کارروائی کی باقاعدہ منصوبہ بندی کر سکتی ہے۔
تقسیم انتہا پسندی کے لیے انتہائی سازگار ہوتی ہے۔ حملہ آور چاہتے تھے کہ مسلمانوں بدنام ہوں چونکہ اس سے فرانسیسی معاشرے میں متضاد رجحانات بڑھیں گے۔ افراتفری پھیلے گی اور دہشت گردی کو فروغ ملے گا۔ڈاکٹر ڈلفرائی
ڈاکٹر پیتر نیسر کا کہنا ہے کہ’عام طور پر تو اس قسم کے حملوں کے لیے تجربہ اور نفسیاتی تیاری چاہیے ہوتی ہے۔‘تاہم کامران بخاری کہتے ہیں کہ اگر دولت اسلامیہ کی ذمہ داری قبول کرنے کے بیانات مصدقہ ہیں تو اب دولت اسلامیہ محض ایک دہشت گروپ نہیں رہا، بلکہ ’ایک منظم عسکری قوت ‘بن کر سامنے آئی ہے جس کے پاس خفیہ معلومات سمیت دیگر عسکری صلاحیتیں موجود ہیں۔’اس قسم کے بین الابراعظمی حملے وسیع لاجسٹکس، تربیت، وسائل اور ایک انٹیلی جنس سروس کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ دولت اسلامیہ اب ایک بظاہر ریاست جیسا برتاؤ کر رہی ہے۔‘

پیرس حملوں کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی ہے

یورپ میں شدت پسندی کے خدشات کافی عرصے ظاہر کیے جا رہے ہیں اور اسے زیادہ خطرہ انفرادی طور پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں سے تھا لیکن پیرس کے حملوں نے اس رائے کو تبدیل کر دیا ہے اور پہلی بار کسی جہادی گروپ نے اس نوعیت کا منظم حملہ کیا ہے۔کامران بخاری کہتے ہیں کہ 2008 کے ممبئی اور پیرس حملوں میں مماثلت پائی جاتی ہے کیونکہ دونوں کا مقصد مختلف گروپوں میں تقسیم ہو کر شہر میں دہشت پھیلا کر میڈیا کے ذریعے زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنا تھا۔’ان حملوں کا مقصد سماج میں تقسیم سے دہشت گردی کو فروغ دینا ہے‘

پیرس میں ایک وقت میں کئی جگہوں کو نشانہ بنایا گیا

ایک بیان میں دولتِ اسلامیہ نے خبردار کیا ہے کہ ’فرانس اور وہ ممالک جو اس کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں انھیں معلوم رہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے اہداف میں سرِفہرست ہیں۔ پیرس پر حملہ ایک طوفان کا آغاز ہے اور سننے اور سمجھنے والوں کے لیے ایک وارننگ ہے۔‘تجزیہ کاروں کو یقین ہے کہ دولتِ اسلامیہ جیسے گروپوں کے آگے آنے، زمین پر بڑھتے ہوئے کنٹرول، غیر ملکی جنگجوؤں کے نیٹ ورک اور جنگ کے تجربے سے مستقبل میں پیرس جیسے دہشت گردی کی کارروائیوں کا امکان بڑھ گیا ہے۔ڈاکٹر نیسر کہتے ہیں ’یورپ میں ایسے منصوبوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ یہ طے کرنا قبل از وقت ہے مگر اس بات کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا کہ پیرس میں جو کچھ ہوا وہ یورپ میں دولت اسلامیہ کے حملوں کا آغاز ہو۔‘
تقسیم اور انتہا پسندی

تقسیم، انتہا پسندی کے لیے انتہائی سازگار ہوتی ہے۔ حملہ آور چاہتے تھے کہ مسلمانوں بدنام ہوں چونکہ اس سے فرانسیسی معاشرے میں متضاد رجحانات بڑھیں گے۔ افراتفری پھیلے گی اور دہشت گردی کو فروغ ملے گاڈاکٹر ڈلفرائی
کامران بخاری کے خیال میں پیرس کا حملہ جہادیوں کی طرف سے ایک طرح کی ’سرمایہ کاری‘ ہے جس کا مقصد ایسی صورتِ حال پیدا کرنا ہے جس سے مغربی حکومت کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں جہادیوں کو مزید کارکن مل جائیں۔وہ کہتے ہیں یہ حملے یورپ میں ان بڑھتے ہوئے ناراض نوجوانوں کی ترجمانی کرتے ہیں جنھیں عالمی جہادی نیٹ ورکس کی طرف سے ٹھکانہ مل رہا ہے اور یہ صورتِ حال اپنی بقا کی خود ضامن ہے۔’شدت پسند جانتے ہیں کہ ان حملوں سے وہ مسلمانوں اور مغربی ممالک کے درمیان خلیج کو مزید بڑھا سکتے ہیں، کشدیدگی کو ہوا دے سکتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف جذبات کو بڑھکا سکتے ہیں جس سے انھیں بڑے پیمانے پر تازہ خون مہیا ہو جائے گا۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ