کیا یاسر شاہ تُرپ کا پتا ثابت ہوں گے

Printer-friendly versionSend by emailPDF version

کیا یاسر شاہ تُرپ کا پتا ثابت ہوں گے

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

یاسر شاہ سے بہت توقعات وابستہ ہیں

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں سب کی نظریں اگرچہ فاسٹ بولر محمد عامر پر لگی ہوئی ہیں جو اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کی سزا بھگتنے کے بعد انگلینڈ میں پہلی بار کھیلیں گے لیکن اس سیریز میں لیگ سپنر یاسر شاہ کو فتح گر بولر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو یقین ہے کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں یاسر شاہ اہم کردار ادا کریں گے۔پاکستانی ٹیم کے کوچ مکی آرتھر اور بولنگ کوچ مشتاق احمد بھی یاسر شاہ کی صلاحیتوں کے معترف دکھائی دے رہے ہیں اور مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں یاسر شاہ ترپ کا پتا ثابت ہونگے۔یاسر شاہ سے بے پناہ توقعات وابستہ کیے جانے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ مختصر سے عرصے میں پاکستانی ٹیم کے لیے بے حد کامیاب بولر ثابت ہو چکے ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ صرف 12ٹیسٹ میچوں میں76 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔یاسر شاہ کی فتح گر بولنگ کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم پانچ میں سے چار ٹیسٹ سیریز جیت چکی ہے جبکہ ایک سیریز برابر رہی ہے ۔یاسر شاہ نے اب تک جو بارہ ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں ان میں سے آٹھ میں پاکستانی ٹیم نے کامیابی حاصل کی ہے ۔یاسر شاہ کے یہ متاثرکن اعداد و شمار اپنی جگہ اہم لیکن یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ انھوں نےابھی تک ایک بھی ٹیسٹ میچ ایشیا سے باہر نہیں کھیلا ہے۔تو کیا یہ بات ان کی کامیابی میں رکاوٹ بن سکتی ہے ؟۔کیا وہ انگلینڈ کی وکٹوں اور ماحول میں کامیاب ثابت ہوسکیں گے؟پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اعلٰی معیار کا لیگ سپنر مخصوص وکٹ کا محتاج نہیں ہوتا۔ یاسر شاہ بھی ایک ورلڈ کلاس سپنر ہیں جن کے پاس قدرتی ویریئشین ہے ان کی گیند میں باؤنس ہے اور وہ کسی بھی وکٹ پر کامیابی حاصل کرسکتے ہیںپاکستانی ٹیم کے بولنگ کوچ مشتاق احمد کے خیال میں لیگ سپنر کے لیے سب سے ضروری چیز اعتماد ہے اور یاسر شاہ اسوقت بھرپور اعتماد کے ساتھ بولنگ کر رہے ہیں اور یہ بات ان کے حق میں جاتی ہے۔اگر ہم سپنرز کی انگلینڈ میں کارکردگی کا جائزہ لیں تو تمام ہی ورلڈ کلاس سپنرز انگلینڈ میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔شین وارن نے انگلینڈ میں 22 ٹیسٹ میچوں میں 139 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ مرلی دھرن نے صرف چھ ٹیسٹ میچوں میں 48 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ کمبلے دس ٹیسٹ میچوں میں 36 اور مشتاق احمد آٹھ ٹیسٹ میچوں میں 32 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔تو کیا اب یاسر شاہ کی باری ہے؟مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ شین وارن ۔ مرلی دھرن اور انیل کمبلے کی خوبی یہ تھی کہ وہ بہت کم خراب گیندیں کرتے تھے اور یہ خوبی یاسر شاہ میں بھی موجود ہے اگر وہ فٹ رہے اور ردھم میں رہے تو انگلش بیٹسمینوں کے لیے مشکلات پیدا کریں گے لیکن مشتاق احمد یہ بات بھی یاد دلاتے ہیں کہ انگلینڈ کے بیٹسمین اب سپنر پر پہلے جیسے کمزور نہیں رہے ہیں انہیں سپن کو کھیلنا آگیا ہے۔اس ضمن میں وہ سنہ 2012 کے انگلینڈ کی ٹیم کے دورۂ بھارت کی مثال دیتے ہیں جس میں انگلش بیٹسمینوں نے بھارتی سپنرز کو اعتماد سے کھیلتے ہوئے سیریز دو ایک سے جیتی تھی۔

BBCUrdu.com بشکریہ