شامی حکومت کی ’دولت اسلامیہ کے خلاف شدید فضائی بمباری‘

Printer-friendly versionSend by emailPDF version

شامی حکومت کی ’دولت اسلامیہ کے خلاف شدید فضائی بمباری‘

رواں سال مئی میں شام کے تاریخی شہر پیلمائرا پر ’دولت اسلامیہ‘ نے قبضہ کر لیا تھا

شام میں مبصرین کے مطابق شامی حکومت کے جنگی طیاروں نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے زیرانتظام شہر پیلمائرا پر شدید بمباری کی ہے۔برطانیہ میں قائم سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ 25 کے قریب فضائی حملوں میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں 12 جنگجو بھی شامل ہیں۔خیال رہے کہ رواں سال مئی میں شام کے تاریخی شہر پیلمائرا پر ’دولت اسلامیہ‘ نے قبضہ کر لیا تھا۔ اس شہر کو یونیسکو کی جانب عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ بھی حاصل ہے۔اوبزرویٹری کے مطابق اس کے علاوہ ادلب میں فضائی بمباری سے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ادلب شدت پسند گروہوں کے جیش الفتح نامی اتحاد کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔خبررساں ادارے روئٹرز نے شامی فوجی ذرائع کے حؤالے سے بتایا ہے کہ شام روس سے حاصل شدہ اہداف کو درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے۔اس سے قبل جمعے کو امریکہ اور روس کے وزرائے دفاع نے اس تنازع کے بارے میں سال میں پہلی بار فون پر بات چیت کی تھی۔

یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل ارینہ بوکووا کا کہنا ہے کہ پیلمائرا کی مرحلہ وار تباہی ’جنگی جرائم‘ کے ذمرے میں آتا ہے

امریکہ کا کہنا تھا کہ روس شام میں اپنی فوجی موجودگی قائم کر رہا ہے، جبکہ صدر بشار الاسد کو کئی علاقوں میں باغی گرہوں کے سامنے پسپائی کا سامنا ہے۔حالیہ فضائی حملے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے مرکز رقہ میں شامی فضائیہ کی کارروائی کے ایک روز بعد کیے گئے ہیں۔اوبزرویٹری کے ترجمان رمی عبدالرحمان کا کہنا ہے: ’گذشتہ دو دنوں میں، حکومت نے دولت اسلامیہ گروہ کے قابض علاقوں میں فضائی حملے تیز کر دیے ہیں۔‘واضح رہے کہ پیلمائرا پر دولت اسلامیہ کے قبضے کے بعد سے یہاں موجود کچھ اہم نوادرات تباہ کر دی ہیں جن میں دو قدیم معبد اور تین مینار شامل ہیں۔یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل ارینہ بوکووا کا کہنا تھا کہ اس شہر کی مرحلہ وار تباہی ’جنگی جرائم‘ کے ذمرے میں آتا ہے۔اس سے قبل دولت اسلامیہ عراق میں بھی کئی قدیم مقامات کو تباہ کر چکی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہ