سرطان کے ماہر ’ڈاکٹر کبوتر‘

Printer-friendly versionSend by emailPDF version

سرطان کے ماہر ’ڈاکٹر کبوتر‘

Univ. IowaWassermann Lab

کبوتر کی تصویری یاد داشت غیر معمولی ہوتی ہے

اگر کوئی شخص بیمار ہو جائے تو صاف ظاہر ہے وہ کسی چوہے یا کبوتر کے پاس جانے کا نہیں سوچے گا، لیکن کبوتروں اور چوہوں جیسی مخلوقات کچھ ایسی صلاحتیوں کی مالک ضرور ہیں جن کی بدولت انسانی بیماریوں کی تشخیں اور ان کے علاج میں مدد مل سکتی ہے۔

ADRIEN BARBIER

چوہے مریض کے بلغم میں ٹی بی کی بُو سونگھ کر رک جاتے ہیں اور اپنی ٹانگیں آپس میں رگڑتے ہیں

چوہے کا نام آتے ہی ہمارے ذہن میں چوہوں سے ہونے والی بیماریوں کا خیال آ جاتا ہے نہ کہ کسی بیماری کے علاج کا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ لمبی دُم والے اس رینگنے والے چھوٹے سے جانور کا دماغ اتنا تیز ہوتا ہے کہ یہ چھوٹی سی تبدیلی کو بھی محسوس کر لیتا ہے اور یوں انسانی جان بچانے کے کام آ سکتا ہے۔چوہے کی ناک کے اندر کم و بیش ایک ہزار قسم کے ریسیپٹر لگے ہوتے ہیں جو اسے مختلف چیزیں سونگھنے میں مدد دیتے ہیں۔ چوہے کے مقابلے میں انسانی ناک میں بُو سونگھنے والے ریسیپٹرّ کی تعداد صرف ایک سو سے دو سو تک ہوتی ہے۔ اولفیکٹری ریسیپٹرز کی اتنی زیادہ تعداد کی بدولت چوہا نہایت خفیف قسم کی بو بھی سنگھ لیتا ہے۔چوہوں کی اسی زبردست صلاحیت کی وجہ سے موزمبیق میں ماہرین افریقہ میں پائے جانے والے ’بلی جتنے بڑے چوہوں‘ کو تپ دق (ٹی بی) کی تشخیص کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔موزمبیق کے شہر مپیٹو کی ایک یونیورسٹی میں ماہرین ان بڑے بڑے چوہوں کو ٹی بی کی تشخیص کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے انسانی بلغم اور تھوک سونگھنے کی تربیت دے رہے ہیں۔یہ چوہے جب کسی مریض کے بلغم میں ٹی بی کی بُو سونگھ لیتے ہیں تو وہ رک جاتے ہیں اور اپنی ٹانگیں آپس میں رگڑ کر بتاتے ہیں کہ تھوک یا بلغم کے مذکورہ نمونے میں انفیکشن موجود ہے۔ٹی بی کی تشخیص کا روایتی طریقہ یہ ہے کہ لیبارٹری کے ٹیکنیشن مریض کے بلغم کے نمونوں کو شیشے کی سلائیڈز پر رکھ کر خورد بین کے نیچے ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس طرح بلغم کے ایک سو نمونوں کے معائنے میں دو دن سے زیادہ کا وقت درکار ہوتا ہے، جبکہ ایک تربیت یافتہ چوہا یہ کام صرف 20 منٹ کے اندر اندر کر دیتا ہے۔چوہوں کی مدد سے ٹی بی کی تشخیص کا طریقہ نہایت کم خرچ ہے اور اس کے لیے آپ کو مہنگے آلات کی ضرورت بھی نہیں۔نہ صرف یہ بلکہ چوہوں کی مدد سے تشخیص اتنی درست ثابت ہوتی ہے جتنی آلات کی مدد سے ہوتی ہے اور یوں چوہے انسانی زندگی کو بچانے میں آلات سے زیادہ کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔دل کے دورے کے ماہر ڈاکٹر کُتے

سٹار کی موت کے بعد سیلی نے اپنے نئے پالتو روبی کے ساتھ باہر جانا شروع کر دیا۔

ہمیشہ سے کُتوں کو انسان کا بہترین دوست سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم گزشتہ برسوں میں ثابت ہوا ہے کہ اگر تربیت دی جائے تو کُتے کس قدر ماہر ثابت ہو سکتے ہیں۔گزشتہ کچھ برسوں صحت کے معاملات میں خاص طور پر کُتے خاصی توجہ کا مرکز رہے ہیں کیونکہ مِرگی کے مریضوں کے ساتھ رہنے والے کتوں نے ثابت کیا ہے کہ انھیں مریض کو دورہ پڑنے سے پہلا معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کے مالک کو دورہ پڑنے والا ہے۔سیلی برٹن کے بقول انھیں مرگی کا مرض بچپن میں ہی لاحق ہو گیا تھا جس کی وجہ سے ان کی زندگی کا ہر پہلو ہمیشہ متاثر رہا ہے۔’میرے گھر والے مجھے کبھی بھی اس خوف سے اکیلا نہیں چھوڑتے تھے کہ کہیں مجھے دورہ نہ پڑ جائے۔ اسی لیے مجھے سکول بھی نہیں بھیجا گیا اور میرے لیے نئے لوگوں کو ملنا اور دوست بنانا بہت مشکل رہا ہے۔ میں ہمیشہ تنہائی کا شکار رہتی تھی۔‘آج سے تیرہ سال پہلے سیلی نے مرگی کے مرض کا ماہر پہلا کتا پالا جس کا نام سٹار تھا۔’جیسے ہی مجھے سٹار کا ساتھ ملا میری زندگی تبدیل ہوگئی اور مجھےلگا کہ اب میں خوشی سے زندہ رہ سکتی ہوں۔‘’سٹار کے آنے کے بعد میں نے جو سب سے پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ میں نے اپنے لیے چائے کی پیالی بنائی۔ یہ وہ کام تھا جو میں 30 سال تک نہیں کر سکی تھی، کیونکہ مجھے دھڑکا لگا رہتا تھا کہ اگر چائے کے لیے گرم پانی میرے ہاتھ میں ہُوا اور مجھے دورہ پڑ گیا تو میرا کیا ہو گا۔‘’اس کے بعد میں خود سے 30 سالوں میں پہلی مرتبہ سٹار کے ساتھ بازار گئی۔‘ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ کُتوں کو مرگی کے دورے کا کیسے پتا چل جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کُتے اپنے مالک کی جسمانی حرکات میں معمولی سی تبدیلی کو بھی پھانپ لیتے ہیں جبکہ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ شاید کتے دورہ پڑتے وقت اپنے مالک کے جسم سے خارج ہونے والی بُو یا ہلکی سی آواز کو پہچان لیتے ہیں۔سٹار کی موت کے بعد سیلی نے اپنے نئے پالتو کُتے روبی کے ساتھ باہر جانا شروع کر دیا۔ سٹار کی طرح ان کے نئے کتے کی تربیت بھی برطانیہ میں کتوں کی ایک فلاحی تنظیم ’سپورٹ ڈاگز‘ نے کی تھی۔اگرچہ اس حوالے سے شائع ہونے والی تحقیق بہت کم ہے لیکن مرگی کی تشخیص میں کتوں کے کردار کے شواہد خاصے زیادہ ہیں۔گائے کے لعاب میں پوشیدہ راز

گائے کے لعاب اور دودھ میں بھی یہ پروٹینز شامل ہوتی ہیں جن میں جراثیموں سے لڑنے کی خصوصیت پائی جاتی ہے

آپ اسے تھوک کہہ لے، رال کہہ لیں یا کچھ ۔ آپ اسے کوئی بھی اچھا یا برا نام دے لیں، لیکن تھوک کا خیال آتے ہی آپ کو متلی ہونے لگتی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سے جانور ایسے ہیں جو اپنے زخموں کو چاٹتے ہیں اور اسے ناسور بننے سے بچانے کے لیے اس پر خوب تھوک ملتے رہتے ہیں۔جانوروں کی دنیا میں شامل ہر جانور کے لعاب میں جراثیم کُش خصوصیات ہوتی ہیں اور گائے بھی اس حوالے سے دیگر جانوروں سے پیچھے نہیں۔مختلف تحقیقات میں ثابت ہوا ہے کہ گائے کے جسم سے خارج ہونے والے مادوں میں لحمیات یا پروٹین شامل ہوتے ہیں۔ گائے کے لعاب اور دودھ میں بھی یہ پروٹینز شامل ہوتی ہیں جن میں جراثیموں سے لڑنے کی خصوصیت پائی جاتی ہے۔دیگر پرویٹینز کے علاوہ گائے کے تھوک میں ’میوکِنز‘ نامی لحمیات بھی شامل ہوتی ہیں جو کسی زخم میں مزید بیکٹیریا کو داخل ہونے سے روکتی ہیں۔اگرچہ ماہرین کا خیال ہے کہ آپ اپنا زخم کسی جانور کو نہ چاٹنے دیں کیونکہ اس طرح نئے بیکٹیریا آپ کے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں، تاہم اگر آپ گائے سے زخم نہ بھی چٹوائیں تو آپ کے اپنے لعاب میں بھی بیکٹیریا کے خلاف لڑنے کی خصویات پائی جاتی ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہ