رنگ بدلنے والی پٹی، ’اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی ممکن‘

Printer-friendly versionSend by emailPDF version

رنگ بدلنے والی بینڈج، ’اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی ممکن‘

Bath University

یہ طبی پٹی بیکٹریا کا پتہ چلنے پر چمکیلے رنگ بکھیرتی ہے

برطانیہ کی باتھ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کے لیے رنگ بدلنے والی ایک بینڈج یعنی طبی پٹی کار آمد ہو سکتی ہے۔

بعض اوقات زخم جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں

ڈاکٹروں کو بغیر عام پٹی ہٹائے بہت آسانی سے اور بہت جلدی انفیکشن کا پتہ نہیں چل پاتا ہے اور پٹی کا ہٹانا درد کا باعث اور مزید زخم کا باعث ہو سکتا ہے۔ایسی صورت حال سے ٹمٹنے کے لیے احتیاط کے طور پر انفیکشن کی تصدیق ہونے سے قبل ہی اینٹی بایوٹکس ادویات دے دی جاتی ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بغیر انفیکشن کے اینٹی بایوٹکس دینے سے بیکٹریا اینٹی بایوٹکس کے خلاف مدافعت پیدا کرسکتا ہے اور ایسے بیکٹریا صحت کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔باتھ میں بائیو فیزیکل کیمسٹری کے شعبے میں ریڈر کے عہدے پر فائز ڈاکٹر ٹوبی جینکنس جو اس پروجیکٹ کے نگراں ہیں انھوں نے کہا کہ ’اس سے واقعی جان بچ سکتی ہے۔‘اس ٹیم کو اس ریسرچ کے نتائج کو جانچنے کے لیے میڈیکل ریسرچ کونسل کی جانب سے 10 لاکھ پاؤنڈ دیے گئے تھے۔

BBCUrdu.com بشکریہ