دبئی میں رمضان میں شراب کی فروخت پر نرمی

Printer-friendly versionSend by emailPDF version

دبئی میں رمضان میں شراب کی فروخت پر نرمی

متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں حکام نے پہلی بار رمضان کے مہینے میں دن کے وقت شراب کی فروخت کے حوالے سے پابندیاں نرم کی ہیں۔امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق حکام کے اس اقدام سے معلوم ہوتا ہے کہ دبئی کے حکمران سیاحت اور شراب پر ٹیکس سے آنے والی آمدن کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ماضی میں اگر کسی نے وائن یا بیئر پینی ہوتی تھی تو اس کو شام یعنی افطار تک کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔تاہم اس بار دبئی کے محکمہ سیاحت اور تجارتی مارکیٹنگ نے رمضان سے قبل ہوٹل کے مینیجرز کو ایک نوٹس بھیجا۔ اے پی کو حاصل ہونے والے اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ رمضان میں شراب کی فروخت عام قوانین کے تحت کی جائے نہ کہ محدود اوقات میں۔اے پی کے اس حوالے سے سوال پر دبئی کے محکمہ سیاحت اور تجارتی مارکیٹنگ کا کہنا تھا کہ سیاحوں کے لیے بہترین ماحول فراہم کرنا دبئی کی سیاحت کا مرکزی جزو ہے۔حکام کا مزید کہنا تھا کہ ان کو امید ہے کہ 10 لاکھ سیاح رمضان میں دبئی کا رخ کریں گے اور ہم امید کرتے ہیں کہ تمام لوگ رمضان کا احترام کریں گے۔تاہم محکمہ سیاحت اور تجارتی مارکیٹنگ نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ شراب نوشی کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کیوں کی گئی ہے۔دبئی میں سیر و تفریح کے علاوہ سیاحوں کے لیے پرکشش بات یہ ہے کہ یہاں شراب فروخت ہوتی ہے جبکہ سعودی عرب، کویت اور ایران میں اس کی ممانعت ہے۔ یہاں تک کہ شارجہ میں بھی شراب نوشی کی اجازت نہیں ہے۔

سیاحت کے علاوہ دبئی کے حکمرانوں کے پاس شراب فروخت کرنے کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ ہر بیئر اور ہر شراب کے گلاس پر 30 فیصد ٹیکس ہے۔ اس کے علاوہ الکوحل درآمد کرنے پر 50 فیصد ٹیکس ہے۔ اس لیے شراب نوشی مہنگی ہے لیکن سیاح اور رہائشی دبئی ایئر پورٹ سے ڈیوٹی فری خرید سکتے ہیں۔اتنا ٹیکس لگنے کے باوجود شراب نوشی میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ سنہ 2014 میں متحدہ عرب امارات میں چھ کروڑ 72 لاکھ لیٹر بیئر اور دو کروڑ لیٹر سپرٹ فروخت ہوئی۔یہ اعداد و شمار یورو مانیٹر انٹرنیشنل کے ہیں اور اس کے مطابق 2019 تک نو کروڑ 12 لاکھ لیٹر بیئر اور دو کروڑ سات لاکھ لیٹر سپیرٹ فروخت کی جائے گی۔

BBCUrdu.com بشکریہ