خنزیر میں انسانی اعضا کی نشوونما کا تجربہ

Printer-friendly versionSend by emailPDF version

خنزیر میں انسانی اعضا کی نشوونما کا تجربہ

امریکہ میں سائنسدان خنزیروں میں انسانی اعضا کی افزائش کی کوشش کر رہے ہیں۔اس تحقیق کے دوران سور کے ایمبریو میں انسانی سٹم سیل کی پیوندکاری کی گئی تاکہ انسان اور سور کا ایمبریو بنایا جائے جسے کائمیراز کا نام دیا گیا ہے۔یہ تجربہ دنیا میں ٹرانسپلانٹ کے لیے دستیاب اعضا کی قلت کو دور کرنے کے سلسلے میں ہونے والی تحقیق کا حصہ ہے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنسدانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ایمبریو میں پیوندکاری کے بعد سور کے صرف ایک اعضا میں انسانی سٹم سیل موجود ہوں گے جبکہ باقی پر کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔انسان کے سٹیم سیل والے ایمبریو کو 28 دن تک نشوونما پانے دیا گیا اور اُس کے بعد حمل کو ساقط کر کے ٹشوز کا جائزہ لیا گیا۔ امید ہے کہ اس تجربے سے انسانی لبلبے کی پیوندکاری کے لیے ٹشوز مل سکتے ہیں۔حیاتیات کے ماہر پیبلو روس اس تحقیق میں اہم کردار ادار کر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’امید ہے کہ سور کا ایمبریو معمول کے مطابق نشوونما پائے گا لیکن لبلبہ صرف انسانی خلیوں سے بنے گا اور ٹرانسپلانٹ کے مریضوں کے لیے یہ صحیح رہے گا۔‘یاد رہے کہ اس تحقیق پر اعتراضات کیے گئے ہیں اور امریکہ میں طبی تحقیقاتی ایجنسی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ نے ایسے تجربات کی فنڈنگ پر پابندی عائد کی تھی۔اس تحقیق پر سب سے زیادہ اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ انسانی خلیے کہیں سور کی دماغ کی نشوونما میں شامل نہ ہو جائیں اور اُس کا دماغ انسانوں کی طرح نہ ہو جائے۔ماضی میں بھی سائنسدانوں کی ٹیم نے جینیاتی ربط تخلیق کیے بغیر ایمبریو میں انسانی سٹم سیل ڈالے تھے۔محقیق پروفیسر روس کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعد میں انھیں معلوم ہوا کہ رحم میں نشوونما پانے والے بچے کے مختلف حصوں میں انسانی خلیے موجود تھے اور انھوں نے سور کے خلیوں سے ’مقابلہ کرنے کے لیے جدوجہد‘ کی۔امید کی جا رہی ہے کہ ایمبریو میں سور کا لبلبہ بنانے والے اہم جین کو ختم کرنے سے انسانی خلیوں پر مشتمل لبلبہ بنانے میں کامیابی مل سکتی ہے۔دنیا بھر میں اعضا کے ٹرانسپلانٹ کے لیے ان کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔برطانیہ میں سات ہزار افراد ٹرانسپلانٹ کروانے کی فہرست میں شامل ہیں اور اعضا ملنے کے انتظار میں ہر سال سینکڑوں افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہ