تحریک انصاف کے ممبران کی رکنیت ختم کی تحاریک واپس

Printer-friendly versionSend by emailPDF version

تحریک انصاف کو ڈی سیٹ کرنے کی تحاریک واپس

پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کی رکنیت ختم کرنے کے حوالے سے ایم کیو ایم اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی تحاریک واپس لے لی گئی ہیں۔جمعرات کو سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس سے قبل سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں طویل مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ تحریک انصاف کی رکنیت معطل کرنے کے حوالے سے پیش کی گئی تحاریک واپس لے لیں جائیں گی۔اجلاس شروع ہوا تو ایم کیو ایم کے رکنِ اسمبلی سلمان خان بلوچ اور جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) کی رکن اسمبلی نعیمہ کشور خان نے تحریک واپس لی ہیں۔حکمران اتحاد میں شامل جماعت اور جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) اور متحدہ قومی موومنٹ نے قومی اسمبلی میں الگ الگ تحریک پیش کی تھیں۔تحریک میں آئین کے آرٹیکل 64 کی شق نمر دو کا حوالے دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ تحریکِ انصاف کے ارکینِ اسمبلی دھرنوں کے دوران 40 دن سے زیادہ عرصے تک ایوان سے بغیر اطلاع دیے غیر حاضر رہے لہذا ان کی رکنیت ختم کی جائے اور الیکشن کمیشن ان نشستوں پر ضمنی انتخابات کروائے۔ان تحریکوں کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے 28 اراکینِ قومی اسمبلی کے ناموں کی فہرست بھی منسلک کی گئی تھی۔اس سے قبل قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق پیش کی جانے والی تحریک پر رائے شماری منگل چار اگست تک موخر کر دی تھی۔رواں ہفتے تحریک انصاف کے اراکین نے قومی اسمبلی کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک اُن کو ڈی سیٹ کرنے کی تحریکوں پر فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک وہ ایوان میں نہیں آئیں گے۔جبکہ سپیکر قومی اسمبلی نے پاکستان تحریک انصاف کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق قراردادوں پر رائے شماری کا معاملہ جمعرات تک کے لیے موخر کر دیا ہے۔رواں ہفتے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تحریک انصاف کے اراکین کی اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے سے متعلق قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی گئی تو حکمران جماعت اس کی مخالفت میں ووٹ دے گی۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کو ملنے والے مینڈیٹ کو تسلیم کرتی ہے اور وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ حزب مخالف کی جماعت پارلیمان میں اپنا کردار ادا کرے۔دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے بھی حکومتی موقف کی تائید کی ہے۔وزیرِ اعظم نواز شریف نے متحدہ قومی موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کے رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کے ارکان کی پارلیمانی رکنیت ختم کرنے کے بارے میں قراردادیں واپس لے لیں۔

BBCUrdu.com بشکریہ