برفانی دور کے انسانوں کے اسرار

Printer-friendly versionSend by emailPDF version

برفانی دور کے انسانوں کے اسرار

فرانس سے برفانی دور کی عورت کی باقیات کی مدد سے اس کی تصویر بنائی گئی

قدیم انسانی ہڈیوں کے ڈی این اے کے تجزیے سے یورپ میں برفانی دور کے باشندوں کے بارے میں اہم اسرار سے پردہ اٹھا ہے۔سائنس دانوں نے 45 ہزار اور سات ہزار سال قبل کے دور کے 51 افراد کے ڈی این اے کا مطالعہ کیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی جلد اور آنکھوں کے رنگ اور جسم کی دوسری خصوصیات کیا تھیں، اور مختلف آبادیوں کی آپس میں کیا رشتے داریاں تھیں۔جینز کے تجزیے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ برفانی دور کے یورپی لوگوں کی آنکھیں بھوری اور جلد کی رنگت گہری تھی۔ 14 ہزار سال پہلے کہیں جا کر نیلی آنکھیں نمودار ہوئیں، جب کہ گوری رنگت سات ہزار سال قبل ظاہر ہوئی۔تحقیق سے 40 ہزار سال کے زمانۂ قبلِ تاریخ دور پر روشنی پڑتی ہے اور یہ پتہ چلتا ہے کہ اس قدیم دور میں بھی لوگ حالیہ زمانے کی طرح بڑی باقاعدگی سے ادھر ادھر ہجرت کرتے رہتے تھے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ 37 ہزار اور 14 ہزار قبل کے یورپ کی تمام آبادیاں ایک ہی گروہ کی اولاد ہیں۔تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ڈیوڈ رائک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے آغاز سے لے آج تک کے انسانوں کا مطالعہ کیا ہے جس سے آبادیوں میں وقت کے ساتھ تبدیلی کی تصویر سامنے آتی ہے۔‘14 ہزار سال قبل یورپ کے لوگ جینیاتی طور پر مشرقِ وسطیٰ، قفقاز اور ترکی کی آبادیوں سے زیادہ قریب ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب برفانی دور کے اختتام پر برف پگھل رہی تھی اور اس سے عکاسی ہوتی ہے کہ ممکنہ طور پر لوگ یورپ کے جنوب مشرق سے ہجرت کر کے یورپ میں آباد ہو گئے ہوں۔اس زمانے کے لوگوں کے ڈی این اے میں نی اینڈرتھال کے ساتھ اختلاط کے زیادہ آثار ملتے ہیں، لیکن رفتہ رفتہ انسانی ڈی این اے میں نی اینڈرتھال کے اثرات کم ہوتے چلے گئے، جس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان کے جینز انسانوں کے لیے نقصان دہ تھے۔تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یورپ میں نی اینڈرتھال کی آبادی قدرتی چناؤ کے اصول کے تحت رفتہ رفتہ سکڑ رہی تھی۔

BBCUrdu.com بشکریہ