آکٹوپس مچھلی گھر سے کیسے فرار ہوا؟

Printer-friendly versionSend by emailPDF version

آکٹوپس مچھلی گھر سے کیسے فرار ہوا؟

فرار ہونے والا ’مجرم‘ انکی

نیوزی لینڈ کے ایک مچھلی گھر سے ایک آکٹوپس فرار ہو گیا ہے۔ خیال ہے کہ یہ اب بحرالکاہِل میں کہیں گھوم پھر رہا ہے۔انکی نامی آکٹوپس نے ساحلی شہر ناپیر کے نیشنل ایکوئریم کے ایک 15 سینٹمیٹر نکاسی پائپ کے تنگ سے سوراخ سے نکل کر فرش پر کھسکتا کھسکتا سمندر کی طرف نکل پڑا ۔مچھلی گھر کے منتظم روب یارال کا کہنا تھا کہ انکی کے ٹینک کا ڈھکن اس وقت تھوڑا سا کھلا رہ گیا جب مرمت کا کام جاری تھا۔ ریڈیو نیوزی لینڈ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’وہ ایک پائپ کے ذریعے سمندر کی طرف نکل پڑا اور جاتے جاتے اس نے کوئی نشان بھی نہیں چھوڑا‘۔بعد میں ملازموں کو ان کو انکی کے فرار ہونے کا راستہ بھی مل گیا۔ فرار ہونے کا یہ واقعہ سال کے شروع میں ہوا لیکن اس کی خبر اخباروں میں منگل کے دن شائع ہوئی۔انکی کا سائز تقریباً ایک رگبی بال جتنا ہے اور اس کا بدن خاصا نرم ہے جس کی وجہ سے وہ مشکل ترین اور تنگ جگہوں میں سے نکل سکتا ہے۔ ’کافی بڑے آکٹوپس بھی اپنے اپ کو سکیڑ کر اپنے منہ کے سائز کا بنا سکتے ہیں۔ منہ ہی ان کے جسم کا سخت حصہ ہوتا ہے۔‘ مچھلی گھر میں انکی دو آکٹوپس میں سے ایک تھا اور صرف اسی نے ہی فرار ہونے کے موقعے کا فائدہ اٹھایا۔ یارال نے ’ہاکس بے ٹوڈے‘ اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک انوکھا واقعہ تھا اور ہاں اب میں دوسرے آکٹوپس پر نظر ضرور رکھوں گا‘۔

BBCUrdu.com بشکریہ