آسٹریلوی وزیر اعظم پر استعفے کے لیے دباؤ

Printer-friendly versionSend by emailPDF version

آسٹریلوی وزیر اعظم پر استعفے کے لیے دباؤ

میلکم ٹرنبل اب بھی حکومت سازی کے لیے پر امید ہیں

آسٹریلیا کے وفاقی انتخاب میں کسی بھی جماعت یا اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملنے کی صورت میں حزب اختلاف نے وزیر اعظم میلکم ٹرنبل سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔حزب اختلاف لیبر پارٹی کے رہنما بل شورٹن نے کہا: ’میرے خیال سے انھیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔ انھوں نے عدم استحکام پیدا کیا ہے۔‘٭ آسٹریلوی وزیر اعظم انتخابات میں کامیابی کے لیے ’پراعتماد‘٭ آسٹریلیا میں انتخابات، انٹارکٹکا میں ووٹنگانتخابات کے نتائج میں کانٹے کا مقابلہ دیکھا جا رہا ہے جب کہ منگل کی صبح ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ادھر آسٹریلوی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ بہت ’پرامید‘ ہیں کہ ان کا کنزرویٹو اتحاد اکثریت کی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگا۔آسٹریلیا میں ’معلق پارلیمان‘ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں اہم جماعتوں میں سے کوئی بھی جماعت حکومت سازی کے لیے مطلوبہ 76 سیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

نتائج میں تضاد نظر آ رہے ہیں

آسٹریلیا کی الیکشن کمیشن (اے ای سی) کے مطابق ایوان زیریں کی 150 نشستوں میں سے برسراقتدار کنزرویٹو اتحاد کو 67 نشستیں ملی ہیں جب کہ سینٹر لیفٹ لیبر پارٹی نے 71 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے جب کہ چھ نشستیں آزاد امیدواروں اور چھوٹی جماعتوں کے حصے میں آئی ہیں۔اے ای سی کے مطابق چھ نشستوں کے بارے میں واضح اشارے نہیں ملے ہیں۔اس کے باوجود ماہرین ان اعداد و شمار کو شک و شبے کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے معتبر تجزیہ نگار اینٹونی گرین کا کہنا ہے کہ اے ای سی کی سائٹ پر بعض نشستوں کا نتیجہ دکھا دیا گیا ہے جب کہ وہاں بہت قریبی معاملہ ہے۔گرین کے مطابق اتحاد نے 68 نششتوں پر کامیابی حاصل کی ہے جب کہ لیبر کو 67 پر کامیابی ملی ہے۔ پانچ نشستیں دوسروں کے حصے میں آئی ہیں جبکہ دس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

شارٹن نے آسٹریلوی وزیراعظم کا موازنہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے کیا

انتخابی مہم کے دوران حکومت اور لیبر پارٹی کے درمیان معیشت، صحت، امیگریشن اور ہم جنس شادی جیسے موضوعات پر اختلافات تھے۔برطانیہ کے ریفرینڈم کے نتائج واضح ہونے کے بعد وزیر اعظم ٹرنبل نے ووٹروں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ معیشت میں بہتری لا سکتے ہیں۔اس کے برخلاف شورٹن نے اپنی جماعت کی کامیابی کی صورت میں ایک ہی جنس کے درمیان شادی کو قانونی حیثیت دینے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہ